الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 623
592 کیا غیر تشریعی نبی آ سکتا هے ؟ حیثیت نہیں رکھتا۔اس کے نزدیک اس قسم کے مفروضے اس وقت قائم کئے گئے تھے جب انسان ابھی ذہنی طور پر اتنا بالغ نہیں ہوا تھا کہ اپنی تقدیر کا خود مالک بن سکے۔نیٹشے نے اپنی کتاب ' Thus spoke Zarathustra میں جو اس کے دانشکدہ کا علامتی ترجمان ہے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ چونکہ اب انسان ذہنی پختگی کی معراج کو پہنچ چکا ہے اس لئے اسے مفروضوں کے ساتھ چھٹے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔نٹیشے لکھتا ہے: ” جب انسان دور تک پھیلے ہوئے سمندروں کو دیکھتا تھا تو خدا کو پکارا کرتا تھا لیکن اب میں نے تمہیں overman یعنی superman کہنا سکھا دیا ہے۔خدا محض ایک تصور ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ تمہارے تصورات تمہارے تخلیقی ارادہ کی قوت سے آگے نہ بڑھنے پائیں۔1 تمہارے نزدیک خدا کی حقیقت کیا ہے؟ لیکن اگر تم حقیقت تک پہنچنے کی خواہش رکھتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہونا چاہئے کہ ہر چیز ایسی صورت میں ہو جسے انسان سوچ سکے، دیکھ سکے اور محسوس کر سکے۔تمہیں اپنے حواس کو بروئے کار لاتے ہوئے سوچنا چاہئے کہ ان سے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔2 خدا تو ایک تصور ہے لیکن کون ہے جو موت کا مزہ چکھے بغیر اس تصور کی اذیت سے نجات پا سکے ؟2 'Thus spoke Zarathustra' کا لب لباب نیٹشے کی ایک خیالی خدا کے خلاف بغاوت ہے جو دراصل عیسائیوں کا تصور ہے اور Zarathustra کو اچھی طرح سمجھنے کیلئے کہ اس نے کیوں خدا کے خلاف بغاوت کی ، اس کتاب کے باب ریٹائر ڈ (Retired) کا مطالعہ ضروری ہے۔لیکن ہمارے موقف کو سمجھنے کیلئے یہ جاننا کافی ہے کہ نیٹے کے دانش کدہ کے مطابق انسان آسمانی ہدایت سے مستقلی ہو چکا ہے کیونکہ اب اس کی پہنی بلوغت رہنمائی کیلئے کافی ہے۔اقبال کا فلسفہ بھی بعینہ یہی ہے کہ چونکہ انسان کی ذہنی صلاحیت پختہ ہو چکی ہے اس لئے اب اسے کسی نبی کی ضرورت نہیں ہے۔اس مستعار فلسفہ کو خدا تعالیٰ کی ضرورت سے قطعی انکار کی