الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 622
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 591 پر شاہد ہے کہ جب کسی مذہب کے پیروکار ایک دفعہ مختلف فرقوں میں بٹ جائیں تو محض انسانی کوشش سے کبھی دوبارہ متحد نہیں ہوا کرتے۔اور یہی بات آج کے مسلمانوں پر بھی پورے طور پر صادق آتی ہے۔کسی آسمانی مصلح کے بغیر یہ لوگ بھی وحدانیت کے ایک جھنڈے تلے دوبارہ جمع نہیں کئے جا سکتے۔افسوس کہ انہوں نے تو اس آسمانی ذریعہ کو جو ان کیلئے امید کی واحد کرن تھی، سرے سے ہی رد کر دیا۔ہر اعتبار سے محفوظ کتاب اور نہایت حزم و احتیاط سے ترتیب دی گئی احادیث کے ذخیرہ کے باوجود جس پر مسلمانوں کا فخر بجا ہے امت مسلمہ کی بہتر (72) فرقوں میں تقسیم اقبال کے انسانی ذہن کی پختگی پر مبنی فلسفہ کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیتی ہے۔مسلمانوں کے باہمی اختلافات محض فروعی نہیں بلکہ بنیادی اور گہرے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلے جارہے ہیں۔اس میں اگر اسلامی دنیا کی اخلاقی زبوں حالی کو بھی شامل کر لیا جائے تو ان کی یہ حالت اور بھی زیادہ قابل رحم اور افسوس ناک ہو جاتی ہے۔اور اگر ان کی بقا کو ان کی پہلی پختگی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو پھر تو ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔کتنے دکھ کی بات ہے! آج کے دانشور کیوں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کسی مذہبی معاشرہ کی پاکیزگی کیلئے محض کامل کتاب کی موجودگی کافی نہیں۔اگر ایسا ہوتا تو اسلام کے پیروکاروں کے ا عقائد میں مثالی وحدت نظر آنی چاہئے تھی۔لیکن بدقسمتی سے حقیقت اس کے برعکس ہے۔ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبال کے دفاع میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آسمانی روشنی کو لفظوں کے ہیر پھیر سے روکنے کا تصور دراصل ان کا اپنا نہیں تھا۔ان کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے عظیم جرمن فلسفی میٹھے (Nietzsche) کی اندھا دھند تقلید کی۔یہ نیٹشے ہی تھا جس نے عہد حاضر میں سب سے پہلے الہی ہدایت کی ضرورت کے بالمقابل انسانی ذہن کی پختگی کا تصور پیش کیا۔در حقیقت نیٹشے نے انسان کو یہ ترغیب دلائی کہ وہ بالغ نظری سے اپنے حواس خمسہ کا استعمال کرے۔اس نے ایسے آدمی کیلئے جو ذہنی بلوغت کو پہنچ چکا ہو اور اس کے حواس خمسہ مکمل طور پر نشوونما پا چکے ہوں Superman ، Overman یا فوق البشر کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ایسے شخص کو رہنمائی کیلئے کسی ایسے خدا کی ضرورت نہیں ہے جو اس کے نزدیک محض ایک تصور سے زیادہ