الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 615 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 615

584 مستقبل میں وحی و الهام تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الَّذِيْنَ الْقَيْمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (الروم 31:30 ) ترجمہ: پس (اللہ کی طرف) ہمیشہ مائل رہتے ہوئے اپنی توجہ دین پر مرکوز رکھ۔یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا۔اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔یہ قائم رکھنے اور قائم رہنے والا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔بلا شبہ خدا کی تخلیق کردہ فطرت تبدیل نہیں کی جاسکتی حتی کہ ایک دہریہ کو بھی تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ انسانی فطرت ازل سے ہی غیر مبدل ہے۔مگر شریعت کی کوئی کتاب جو اس غیر مبدل فطرت کے مطابق تو ہو، انسانی دست برد کی وجہ سے تحریف کا شکار ہوسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اس خدشہ کے پیش نظر یہ اعلان کرتا ہے کہ یہ کتاب مکمل طور پر محفوظ ہے۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ) ( الحجر 10:15) ترجمہ: یقیناً ہم نے ہی یہ ذکر اتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔تاریخ نے اس دعویٰ کو درست ثابت کر دیا ہے۔چنانچہ وہ نبی جس پر یہ شریعت نازل ہوئی ہے، اسے لازماً آخری نبی ماننا پڑے گا اور یہ ایک معقول دعوئی ہے۔مگر جب یہ کہا جائے کہ کوئی غیر تشریعی نبی بھی نہیں آسکتا تو یہ بغیر کسی عقلی جواز کے خاتمیت کے غلط معنی کرنے کے مترادف ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیش نظر رہے کہ جو نبی آپ حضرت عیسی کو خاتمیت کے اس قاعدہ سے مستقلی قرار دیں گے (جیسا کہ آپ کا موقف ہے) اسی لمحہ آپ مطلق خاتمیت کے اپنے ہی دعوی کی تردید کے مرتکب بھی ہو جائیں گے۔جب ان لوگوں کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا جائے تو وہ یوں بے پروائی ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے کوئی مسئلہ موجود ہی نہ ہو۔دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ مندرجہ ذیل وجوہ کی بنا پر آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بطور نبی مبعوث ہونا مطلق خاتمیت کے منافی نہیں۔لیے حضرت عیسی کو انبیاء کی اس جماعت میں سے واپس لایا جائے گا جو آنحضرت۔