الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 614
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 583 آمد کا جو اسلوب تجویز کرتے ہیں وہ اس آمد کو یکسر نا ممکن بنا دیتا ہے۔بالفاظ دیگر پرنالہ و ہیں رہتا ہے جہاں پر تھا۔they کسی نبی کا آخری نبی ہونا یا تو اس کے پیغام یا پھر اس کے مقام خاتمیت کی حکمت کے حوالہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ممکن ہے کہ وہ اپنے مقام اور | پیغام کے اعتبار سے تو آخری ہو لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کم درجہ والا کوئی دوسرا نبی اس کی مہر ختمیت توڑے بغیر مبعوث ہو جائے۔اب ہم نبوت کے اسی پہلو کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔صلى الله قرآنی شریعت اور آنحضرت عمل جن پر یہ شریعت نازل ہوئی کی خاتمیت پر تمام مسلمانوں کا پختہ ایمان ہے۔قرآن کریم جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے قیامت تک انسانی دست برد سے الہی حفاظت کا وعدہ دیا گیا ہے۔اگر یہ دعویٰ درست ہے جیسا کہ مسلمانوں کا ایمان ہے تو ایسی شریعت کے حامل کو لازماً آخری تشریعی نبی ماننا پڑے گا اور بلا استثناء تمام مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے۔لیکن غیر مسلموں کے نقطہ نظر سے اس بات کو سمجھنا مشکل ہے کہ کس طرح کوئی کتاب بدلتے ہوئے حالات کے باوجود تمام ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔اور اگر قرآن کریم کے عالمگیر ہونے کے دعوی کو بھی مان لیا جائے تو ایک غیر مسلم کے نزدیک یہ مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔اس بات کی کیا منطقی تو جیہ ہوسکتی ہے کہ ایک الہامی کتاب بیک وقت تمام بنی نوع انسان کے جملہ مسائل کا حل پیش کر سکے۔دنیا میں یورپی، امریکی، افریقی، عرب، روسی، اسرائیلی اور ایشیائی اقوام موجود ہیں جو اپنے اپنے لسانی پس منظر اور لوک ثقافت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔پھر ان کی سیاسی اور سماجی روایات میں اتنا فرق ہے کہ یہ تصور انتہائی مشکل ہے کہ ایک ہی مذہبی شریعت ان سب کو منصفانہ طور پر مطمئن کر سکے۔ان دونوں سوالات کے جواب میں قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ اس کی تمام تعلیمات کی بنیاد انسانی فطرت پر ہے جو زمانی لحاظ سے غیر متبدل اور تمام انسانوں میں مشترک ہے۔جو تعلیم بھی فطرت انسانی کے مطابق ہو غیر مبدل ہوگی۔چنانچہ قرآن کریم اسی اصول کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا