الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 616
الهام ، عقل ، علم اور سچائی پہلے مبعوث ہوئے تھے۔چنانچہ یوں آپ ﷺ کی مہر سمیت نہیں ٹوٹے گی۔مہر سمیت تو صرف اسی صورت میں ٹوٹ سکتی ہے کہ اگر خدا آپ ﷺ کے بعد ایک نبی مبعوث کرے خواہ وہ صاحب شریعت نہ بھی ہواور بیشک آپ ﷺ ہی کی امت کا ایک فرد ہو۔حضرت عیسی کی نبوت وہی ہوگی جو انہیں اسلام سے پہلے ملی تھی۔لیکن چونکہ بعثت ثانیہ میں 585 وہ آنحضرت ﷺ کے ماتحت ہوں گے اس لئے ان کی حیثیت ایک آزاد نبی کی نہیں ہوگی۔پس چونکہ حضرت عیسی پرانے نبی ہیں اور اپنی آمد ثانی میں آنحضرت ﷺ کے ماتحت ہوں گے اس لئے ان کی آمد سے مہر ختمیت نہیں ٹوٹتی۔اس طرح ان کے نزدیک خاتمیت کا صرف یہ مطلب ہوا کہ نیا نبی مبعوث نہیں ہو سکتا البتہ سابقہ انبیاء کو واپس لایا جاسکتا ہے۔مگر یہ ایک نہایت احمقانہ عقیدہ ہے۔یہ کیسا صاحب حکمت خدا ہے جو کسی کے حق میں مکمل خاتمیت کا حکم اس علم کے با وجود صادر کرے گا کہ اس کے بعد بھی کسی نبی کی ضرورت باقی رہے گی۔نئے اور پرانے کا سوال غیر متعلق ہے۔بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا نبی کی ضرورت ہے بھی یا نہیں؟ آخری نبی کے بعد کسی اور نبی کے ظہور کا عقیدہ اپنی ذات میں ایک تضاد رکھتا ہے۔اس کے جواب میں علماء ہمیشہ دلیل توڑ موڑ کر یوں پیش کرتے ہیں کہ آخری نبی کے بعد اگرچہ نبی کی ضرورت تو پڑ سکتی ہے تا ہم آخری نبی کی خاتمیت پر اس صورت میں کوئی حرف نہیں آتا اگر اس ضرورت کو کسی پرانے نبی سے پورا کر لیا جائے۔صاف ظاہر ہے کہ یہ چالا کی اور دھوکہ دہی کی ایک کھلی کھلی کوشش ہے۔پرانے اور نئے کی تفریق صرف مسئلہ کو الجھانے کی ایک بچگانہ حرکت ہے۔اگر حضرت مسیح ناصری دوبارہ آکر آنحضرت ﷺ کے ماتحت ہوں بھی تو بھی ان کی اپنی نبی کی حیثیت تو بہر حال قائم رہے گی۔اس لئے کیا یہ ہزار درجہ بہتر نہ ہوگا کہ نئے تقاضوں کو پورا کر نے کے لئے گزشتہ امتوں میں سے کسی پرانے نبی کو عاریہ واپس بلانے کی بجائے اسی مقصد کے حصول کیلئے امت مسلمہ میں سے ہی کوئی شخص بطور نبی کے مبعوث ہو۔کیونکہ اگر اوّل الذکر پرانے نبی کے آنے سے مہر ختمیت نہیں ٹوٹتی تو مؤخر الذکر کے آنے سے کیسے ٹوٹ جائے گی۔