الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 613 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 613

582 مستقبل میں وحی و الهام کے آتے ہی متحرک ہو جائے گی۔اور اگر وہ بقول جمہور علماء اتنا ہی خونی ہوگا تو پھر تو وہ تلوار لہراتا ہوا آئے گا اور دنیا کی تمام غیر اسلامی حکومتوں کے خلاف جہاد یعنی قتال کا اعلان کر دے گا۔مذہبی جنون کے اس طوفان میں بالآخر مذہب ہی مورد الزام ٹھہرے گا۔نا معقولیت اور پاگل پن کے اس اکھاڑے سے معقولیت خدا سے یہ فریاد کرتے ہوئے رخصت ہو گی کہ خدایا! مذہب کو ان خود ساختہ نجات دہندوں سے نجات دلا۔جب تک تو اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے خود کوئی فوری اقدام نہیں فرمائے گا ہندو، عیسائی، زرتشتی، یہودی اور مسلمان یکساں طور پر اسی مصیبت میں گرفتار رہیں گے۔کوئی معقول آدمی الہی ارادوں کی اس نا معقول اور لغو تشریح کی ایک لمحہ کیلئے بھی تائید نہیں کر سکتا۔مذہبی پیشگوئیوں اور تمثیلات کی تشریح کیلئے عقل سلیم کا استعمال ضروری ہے۔وحدت انسانی کے سنہری دور کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خدا تعالی کے ایک منتخب مذہب میں اس کا بھیجا ہوا ایک فرد واحد مصلح کے طور پر ظاہر نہ ہو۔اس آخری زمانہ میں مذہبی دنیا کو در پیش مسائل کا واحد حل یہی ہے جسے انہی لوگوں نے کلیہ رد کر دیا ہے جنہیں اپنی بقا کیلئے اس کی ضرورت ہے۔اس کی بجائے وہ اپنے مزعومہ سنہری دور کے اس کھو کھلے تصور کے ساتھ چھٹے رہنے پر مصر ہیں جس کی ایک سراب سے زیادہ حیثیت نہیں۔مذکورہ بالا منظر ہر مذہب کے اندر موجود تناقضات کو واضح کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔کیونکہ بالآخر اسی سے بنی نوع انسان کی نجات وابستہ ہے۔مگر وہ امید کے دروازے کھول کر خود ہی انہیں بند بھی کر دیتے ہیں۔مسلمانوں کا معاملہ صرف زمانی ترتیب کی حد تک ہی مختلف ہے۔وہ آنحضرت کی مطلق خاتمیت کے عقیدہ کی بنیاد پر ان دروازوں کو پہلے بند کر لیتے ہیں اور پھر فوراً انہیں دوبارہ کھولتے بھی جاتے ہیں۔مگر ان کے موقف میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی۔چنانچہ عام اسلامی دنیا کی سیج پر جاری ڈرامہ باقی دنیا کی مذہبی تیج پر کھیلے جانے والے ڈراموں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ کی مطلق خاتمیت کے اعلان کے ساتھ ساتھ وہ اسی اشتیاق اور جوش و جذبہ کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وجود سے بھی چمٹے ہوئے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ حضرت عیسی دوبارہ آئیں گے اور آنحضرت ﷺ کے بعد آئیں گے۔علاوہ ازیں ان کی **