الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 608

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 577 نا قابل تردید حقیقت کے طور پر پیش کیا کہ اتنے سارے مصلحین کا بیک وقت ظہور صرف استعارہ کے رنگ میں ہو سکتا ہے نہ کہ ظاہری طور پر۔چنانچہ آپ کا بعینہ یہی دعوی تھا کہ امام مہدی عیسی ، بدھ ، کرشن اور باقی تمام مصلحین جن کا انتظار کیا جا رہا تھا، کے دوبارہ ظہور کا وعدہ آپ کے وجود باجود میں پورا ہوا ہے۔اس دعویٰ پر غیروں کی طرف سے ہونے والے رد عمل کو کچھ دیر کیلئے ایک طرف رکھتے ہیں اور مسلمان ملاؤں کے رد عمل کا جائزہ لیتے ہیں۔انہیں حضرت بدھ ، حضرت کرشن یا کسی دوسرے کی آمد ثانی سے جنہیں وہ سرے سے مانتے ہی نہ تھے، کوئی غرض نہیں تھی سوائے اسرائیلی نبی، حضرت عیسی علیہ السلام کے۔انہیں یہ دعویٰ ہضم نہیں ہورہا کہ کوئی شخص حضرت عیسی کا ظل یا بروز ہو۔کیونکہ ان کے خیالی مسیح کی وفات کا اعلان ہی ان کے نزدیک سخت کفر ہے اور مثیل مسیح کی مسلمانوں میں سے ہی آمد کے تصور سے انہیں ابکائیاں آنے لگتی ہیں۔یادر ہے کہ برطانوی ہند میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی شہرت ان کے دعوئی سے پہلے آپ کی تصنیف’ براہین احمدیہ کی وجہ سے خوب پھیل چکی تھی۔آپ کی اس کتاب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرقہ اہل حدیث کے نامور عالم مولوی محمد حسین بٹالوی لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آج تک اسلام کے دفاع میں براہین احمدیہ کے مصنف سے بڑھ کر خدمت کی توفیق کسی کو نصیب نہیں ہوئی ! مقبولیت کے اس دور میں جب آپ نے اچانک یہ اعلان فرمایا کہ اسرائیلی نبی حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود نہیں بلکہ وفات پاچکے ہیں تو صورت حال ڈرامائی طور پر یکدم تبدیل ہوگئی۔وہی علماء جو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی تعریف میں رطب اللسان تھے، یکسر بدل گئے۔ان کے نزدیک ان کے آقا اور مستقبل کے نجات دہندہ یعنی عیسی علیہ السلام کے بالمقابل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی حیثیت ہی کیا تھی۔پس راتوں رات آپ کی شہرت آسمان سے زمین پر آ رہی۔ان کے زعم میں اب ضروری ہو گیا تھا کہ مسیح کی آسمان پر بجسد عنصری موجودگی کے تصور کو بحال کیا جائے۔اور مثیل مسیح ہونے کے دعویدار کو تو قتل کر دینا چاہئے تھا۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے دعوئی نے جو ہلچل مچائی ہندوستان کی مذہبی تاریخ میں اس سے پہلے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔آپ کے خلاف سب وشتم اور دشنام دہی کا