الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 607

576 مستقبل میں وحی و الهام تشریح پر متفق ہیں۔ان سب کا یہ عقیدہ ہے کہ میسیج کی آمد ثانی نبی کے طور پر ہی ہوگی۔اور اس کے ساتھ وہ آنحضرت ﷺ کی مطلق خاتمیت کے بھی علمبردار ہیں۔جب موعود امام مہدی کے ظہور کی بات ہوتی ہے تو ان کے عقیدہ میں پایا جانے والا تضاد اور بھی کھل کر نمایاں ہو جاتا ہے کیونکہ حضرت امام مہدی کا مامور من اللہ ہونا ضروری ہے۔چنانچہ اس لحاظ سے اس پر ایمان لانا ہر مسلمان پر واجب ہو جاتا ہے۔حضرت امام مہدی کے اس منصب کے بارہ میں بعد میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا یہاں یہ مختصر ذکر صرف یہ امر واضح کرنے کیلئے کیا گیا ہے کہ امام مہدی کو اگر چہ نبی کا خطاب تو نہیں دیا گیا لیکن اس کا مرتبہ اپنے اندر نبوت کی تمام شرائط رکھتا ہے۔اس کے بعد اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی کب اور کس صورت میں ہو گی۔آمدثانی کے متعلق جماعت احمدیہ کا عقیدہ جمہور مسلمانوں کے عقیدہ سے ملتا جلتا ہے۔لیکن یہ آمد ثانی کس رنگ میں ہوگی ؟ اس بارہ میں اختلاف ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ بعثت ظاہری ہوگی یا تمثیلی؟ کیا آنے والا وہی شخص ہوگا یا اس کی خوبیوں کا حامل کوئی دوسرا۔کیا وہ اسلام قبول کرنے والا کوئی عیسائی نبی ہوگا یا ایسا مسلمان نبی جو مسیح کا مثیل ہو گا؟ اس کا باقی مذاہب کے ساتھ کس نوعیت کا تعلق ہوگا ؟ یہ وہ پیچیدہ سوالات ہیں جن کا مکمل جواب دینا ضروری ہے۔اس تعلق میں جماعت احمدیہ کا موقف ہی واحد معقول موقف ہے۔جماعت احمد یہ اصولی طور پر تمام مذاہب کے اس دعوی کو تسلیم کرتی ہے کہ آخری زمانہ میں ایک عالمگیر ربانی مصلح ظاہر ہو گا۔جب ہند و حضرت کرشن علیہ السلام کی آمد ثانی کی بات کرتے ہیں تو یہ دعوی اسی طرح تسلیم کئے جانے کے لائق ہے جیسے عیسائیوں کا یہ دعویٰ کہ حضرت مسیح دوبارہ آئیں گے۔اسی طرح حضرت زرتشت ، حضرت بدھ یا حضرت کنفیوشس کے ماننے والوں کا یہ دعوی کہ موعود نجات دہندہ دوبارہ دنیا میں ظاہر ہو گا، بھی اسی طرح قابل احترام ہے۔لیکن بظاہر یہ متضاد دعاوی صرف اسی صورت میں بچے ثابت ہو سکتے ہیں جب انہیں ظاہر کی بجائے استعارہ پر محمول کیا جائے۔چنانچہ اس صورت میں یہی منطقی استنباط ممکن ہے کہ موعود مصلح بہر حال ایک ہی شخص ہو گا جو سب کا مظہر ہوگا۔ور نہ ان تمام پیشگوئیوں کا ظاہری طور پر پورا ہونا ناممکن ہے کیونکہ ان سب کے ساتھ مافوق الفطرت عصر بھی شامل ہے۔یہی وہ بات تھی جسے حضرت بانی جماعت احمدیہ نے دنیا کے سامنے ایک