الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 542
الهام ، عقل ، علم اور سچائی اصحابی کالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم 515 یعنی میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں۔تم جس کے پیچھے بھی چلو گے ہدایت پا جاؤ گے۔2 جب یہ کہا جائے کہ سورج نے روشنی دینا چھوڑ دی ہے تو واضح طور پر اس سے مراد اسلام کا صلى الله زوال ہے کیونکہ آنحضرت علیہ اس کی زندہ علامت ہیں۔اسی استدلال کے مطابق ستاروں کے ماند پڑ جانے سے مراد وہ زمانہ ہے جب علمائے دین اسلام کی روشنی پھیلانے کے قابل نہیں رہیں گے۔بعد کی آیات اس استدلال کی بھر پور تائید کرتی ہیں اور دور حاضر کی عظیم سائنسی، سیاسی اور معاشرتی ترقی کا مسلسل ذکر کرتی ہیں۔کیونکہ اگر اس سورۃ کے ابتدائی حصہ کو ظاہری معنوں پر محمول کیا جائے تو اس کے دونوں حصوں میں تضاد دکھائی دے گا۔اس صورت میں یہ کوئی قابل تعریف بات نہیں ہوگی۔ان غیر معمولی علمی ترقیات کے شاندار دور کا ذکر کچھ یوں ہوگا گویا سورج لپیٹ دیا جائے اور ستاروں کی روشنی ماند پڑ جائے۔یہ دو مختلف چیزیں ہیں جو مستقبل میں ہونے والی ترقیات کے مختلف پہلوؤں سے تعلق رکھتی ہیں۔تاہم اگر اس سورۃ کا اکثر حصہ عیسائی دنیا کی مادی ترقی کا ذکر کرتا ہے جو امریکہ کی دریافت کے بعد مقدر تھی تو اس کے بالمقابل پہلی دو آیات لازماً اسلام کے زوال کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ امریکہ کی دریافت کے ساتھ ہی اسلام کیوں زوال پذیر ہو گیا ؟ اگر ہمیں اس سوال کا جواب مل جائے تو ہمیں ان آیات کی تشریح کیلئے مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رہے گی۔جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں 1492 ء کا سال تاریخ انسانی میں ایک اہم سنگ میل ہے جو نئی دنیا اور پرانی دنیا کے مابین حد فاصل کا حکم رکھتا ہے۔کیا ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلام کا زوال بھی اسی سال اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا جس سے قاری ان دونوں کے باہمی تعلق کو بآسانی شناخت کر سکے؟ ہمارے خیال میں یہ بات بآسانی ثابت کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ ہماری رائے نہیں ہے بلکہ تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے جس کی شہادت عیسائی مؤرخین نے خود دی ہے۔Chronicle of the World میں اسلام کے تعلق میں اس سال کے نمایاں واقعات کو یوں بیان کیا گیا ہے: دس سال کی معرکہ آرائی کے بعد مسلم سپین کا آخری شہر غرناطہ ہسپانوی فوج کے قبضہ میں