الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 541
514 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم مذکورہ بالا دونوں پیشگوئیوں کی تاریخی ترتیب بھی اپنے اندر ایک پیغام رکھتی ہے۔زمین کے پھیلاؤ اور توسیع کی پیشگوئی کے معا بعد نئی دھاتوں کی دریافت سے متعلق پیشگوئی مذکور ہے اور بعینہ اسی ترتیب سے یہ پیشگوئیاں پوری بھی ہوئی ہیں۔آثار قدیمہ کی دریافت کے متعلق پیشگوئی وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ (الانفطار (5:82) ترجمہ: اور جب قبریں اکھاڑی جائیں گی۔چنانچہ سورۃ الزلزال کی تیسری آیت میں تو بتایا گیا ہے کہ زمین اپنے مخفی خزانے اگل دے گی۔اور سورۃ الانفطار کی مندرجہ بالا آیت آثار قدیمہ کی دریافت کی واضح طور پر خبر دے رہی ہے۔لیکن قرآن کریم کی صرف یہی آیت اس مضمون پر روشنی نہیں ڈالتی۔ہم نے اس آیت کا انتخاب اس لئے کیا ہے کہ یہ اپنے اندر ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے۔ورنہ قرآن کریم کی بہت سی آیات قدیم مدفون بستیوں اور تہذیبوں کی طرف انسان کو بار بار اور براہ راست متوجہ کرتی ہیں۔نیز اسے ان آثار قدیمہ کی کھدائی اور ان کی تباہی کے اسباب کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دلاتی ہیں۔سورۃ التکویر کی مندرجہ ذیل آیات میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ اسلام اپنی نشاۃ ثانیہ سے پیشتر زوال پذیر ہو چکا ہوگا۔إِذَا الشَّمْسُ كُورَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ قُ (التكوير 2:81-3) ترجمہ : جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب ستارے ماند پڑ جائیں گے۔یادر ہے کہ یہاں سورج اور ستاروں سے تمثیلی طور پر اسلام اور بزرگان امت مراد ہیں۔قرآن کریم آنحضرت ﷺ کو سراج منیر قرار دیتا ہے جس کے لغوی معنی روشن اور چمکدار سورج کے ہیں اور آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ کو ایسے روشن ستارے قرار دیا ہے جنہوں نے براہ راست ﷺ سے روشنی حاصل کی اور آپ ﷺ کے بعد بھٹکے ہوؤں کی ہدایت کا موجب بنے۔