الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 491 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 491

الهام ، عقل ، علم اور سچائی اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مچھلیاں بڑی اچھی ریاضی دان ہیں۔دراصل ان کے جسم میں ایک ایسا آلہ ہے جس کی مدد سے وہ اپنے ماحول کے مسائل کو حل کر لیتی ہیں عین اسی طرح 469 جیسے کسی گیند کو دبوچتے وقت ہمارا دماغ لاشعوری طور پر ایسے مسائل کو حل کر لیتا ہے۔19 مشکل یہ ہے کہ جو مسئلہ انہیں در پیش تھا اسے حل کرنے کی کوشش میں انہوں نے نادانستہ طور پر ایک اور مسئلہ کھڑا کر لیا۔انسانی دماغ اور اس کے گیند کو دبوچنے کے طریق کار سے قطع نظر، مچھلی کے دماغ پر غور کریں جو لاشعوری طور پر از خود نہایت مشکل حسابی مسائل حل کر لیتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر کے اس اقرار کے بعد ہمیں ان سے یہ توقع تھی کہ وہ اپنے وضاحت کردہ تدریجی ارتقا کے نظریہ کا اطلاق الیکٹرک ایل (col) پر کر کے دکھائیں گے۔انہیں یہ بھی واضح کرنا چاہئے تھا کہ مچھلی کے بجلی پیدا کرنے والے اعصاب کیسے بتدریج ارتقا پذیر ہوئے۔کس طرح عین ہر مخصوص ضرورت کے مطابق برقی قوت کی طاقت کنٹرول کرنے کا مسئلہ حل ہوتا گیا۔اور بجلی پیدا کرنے والا نہایت عمدہ نظام جو مچھلی کے ہر علم کی تعمیل بغیر غلطی کے کرتا ہے اپنے تمام تر اعصاب نیز برقی قوت کنٹرول کرنے کی صلاحیت سمیت خود بخود کیسے ارتقا پذیر ہو گیا ؟ یہ تمام سوالات ہنوز حل طلب ہیں۔ہم پروفیسر ڈاکٹر کو نسبتا کم صلاحیتیں رکھنے والی مچھلیوں کے ارتقا کے لمبے سلسلہ پر دوبارہ تحقیق کی رحمت نہیں دیتے۔ظاہر ہے کہ وہ تو دنیا کے نقشہ سے غائب ہو چکیں۔اب ان کا ذکر بے سود ہے۔تدریجی ارتقا کے نظریہ کو ثابت کرنے کیلئے پروفیسر موصوف کے سامنے اب صرف ایک ہی رستہ باقی ہے کہ وہ ایل (col) کے انتہائی پیچیدہ نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تسلیم کریں کہ وہ انسان کی بنائی ہوئی ہر مشین سے بہر حال بہتر ہے۔ان کے پاس یہ ثابت کرنے کیلئے بہت اچھا موقع تھا کہ ایل (eel) کے دماغ نے محض اپنے اندر موجود جینز کی مدد سے لاشعوری طور پر خود بخود اتنے پیچیدہ نظام کو تخلیق کر لیا۔لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جینز تو بذات خود عقل سے بے بہرہ اور شعور سے عاری ہیں۔کچھ وقت کیلئے وہ ایل (eel) کو ایک طرف رکھ کر ذرا اس امر پر غور فرمائیں کہ اگر انہیں ہر قسم کی جدید ترین سائنسی سہولت اور علم میسر ہوتا تو کیا وہ ایسی مچھلی بنا سکتے تھے! بجلی پیدا کرنے والا یہ حساس اور پیچیدہ نظام سمندر میں خود بخود کیسے تشکیل پا گیا ؟ نیز یہ نظام بلا مقصد ، بغیر کسی منصوبہ اور شعور کے کیسے کام کرتا ہے؟ اس کا تصور کر کے ذہن میں جو منظر ابھرتا