الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 492
470 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ماضی بعید میں کسی وقت ایک عام مچھلی یہ دیکھ کر ششدر رہ گئی کہ اس کے پیٹ پر بجلی پیدا کرنے والے اعصاب اچانک ابھر آئے ہیں۔اس موقع پر ہم تو اس بیچاری مچھلی کی سراسیمگی پر اس سے ہمدردی ہی کر سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ انتظار بھی کہ بجلی پیدا کرنے والا یہ انتہائی پیچیدہ نظام ترقی پذیر ہو کر کسی با مقصد آلے کی شکل اختیار کر لے۔مچھلی کیلئے بہر حال یہ پریشانی کی بات ہوگی کیونکہ اب تک تو یہ عجیب و غریب کیفیت اس کی سمجھ سے بالا تھی۔ڈارون کے نظریہ کی رو سے یہ صورت حال کتنا طویل عرصہ چلی ہوگی، اس بارہ میں پروفیسر ڈاکنز ہی بہتر جانتے ہیں۔پھر جسم کے کسی اور حصہ میں وولٹ میٹر نمودار ہونا شروع ہوا جس سے منسلک اعصاب مچھلی کے ننھے سے دماغ سے جڑے ہوئے تھے۔کچھ عجیب و غریب جسمانی تبدیلیوں کے بعد عضلات نے ایک نئی ترتیب اختیار کرنا شروع کی۔نتیجہ: مچھلی نے اپنے اندر حیرت انگیز صلاحیتیں پیدا ہوتی ہوئی محسوس کیں۔اس طرح سے کسی گمنام خالق نے ، وہ جو کوئی بھی تھا، الیکٹرک جیزیٹر کا شاہکار پیدا کر دیا۔کیا یہ خالق، جسم، علم اور شعور سے عاری انتخاب طبعی کا قانون تھا یا یہ مچھلی کا دماغ تھا جو خود اپنی صلاحیتوں سے بھی بیخبر ہے یا یہ بیشمار طاقتوں کے حامل جینز تھے جنہوں نے شعور سے عاری ہونے کے باوجود وہ تمام اختیارات سنبھال لئے جو ایک ایسے نظام کو پوری مہارت سے چلانے کیلئے ضروری تھے اور جن کا چلانا ایک نہایت قابل سائنسدان کا متقاضی تھا؟ پروفیسر ڈاکنز اور بھی بہت سے بنیادی نوعیت کے مسائل پر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔وہ اس سوال کا بھی کوئی واضح جواب نہیں دے پائے کہ دو قسم کی الیکٹرک مچھلیاں یعنی جبوبی امریکہ کی مچھلی اور افریقہ کی نسبتا کمزور قسم کی مچھلی ایک دوسرے سے بالکل مختلف کیوں ہیں اور دونوں علیحدہ علیحدہ طور پر مختلف جغرافیائی علاقوں میں نشو و نما پانے کے باوجود ایک جیسا نظام کیوں رکھتی ہیں؟ جغرافیائی بعد کے باوجود ایک دوسرے سے مماثلت رکھنے والے نظام کے ارتقا کے بارہ میں پروفیسر موصوف یوں وضاحت کرتے ہیں: اتفاقاً اور وہ بھی الگ الگ کم از کم دو مرتبہ راستہ تلاش کرنے کا یہ انتہائی باکمال طریق الیکٹرک مچھلیوں کے ہاتھ لگا ہے۔20