الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 490 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 490

468 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق منطق اور عقلِ سلیم کی رو سے کلیدی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مچھلی اس وقت ان تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی تھی تو پھر یہ تبدیلیاں رونما کیسے ہوئیں۔اس سلسلہ میں پروفیسر موصوف یوں رقمطراز ہیں:۔تاہم ان مچھلیوں کو اس امر کی قیمت یوں چکانا پڑی کہ انہیں تیرنے کا نارمل اور انتہائی موثر انداز ترک کرنا پڑا اور اس مسئلہ کا حل انہوں نے یوں نکالا کہ اپنے جسم کو ڈنڈے کی طرح سخت اور بے لچک رکھ کر سانپ کی طرح بل دار بنا دیا۔184 اور وہ کون ہیں جنہوں نے اس مسئلہ کا حل نکالا ؟ پروفیسر ڈاکنز نے اس کی نشاندہی سے گریز کیا ہے۔کیا مچھلیوں نے از خود یہ کام کیا ؟ اگر نہیں تو پھر یہ کام کس نے کیا ہے۔اگر ہم تدریجی ارتقا کے نظریہ کے تحت برقی مچھلی کی ابتدا پر غور کریں تو یوں لگتا ہے کہ اس کے سارے نظام کی ابتدا بجلی پیدا کرنے والے اعصاب سے ہوئی۔پروفیسر ڈاکنز اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: $5 مچھلی کے بجلی پیدا کرنے والے ہر عصب میں ایسا نظام موجود ہے جسے ہم چھوٹے سے وولٹ میٹر کا نام دے سکتے ہیں جو دو پیج کو کنٹرول کرتا ہے۔اگر مچھلی کے قرب و جوار میں کوئی چٹان یا کسی قسم کی خوراک موجود ہو تو برقی لہریں ان سے ٹکراتی ہیں اور ان لہروں کی ہئیت میں جو تبدیلی ہوتی ہے اسے مچھلی کا متعلقہ وولٹ میٹر محسوس کر لیتا ہے۔جس طرح ایک کمپیوٹر برقی لہروں کے پیغام کو پڑھ لیتا ہے بالکل اسی طرح برقی مچھلی کا دماغ بھی بظاہر وہی کارنامہ سرانجام دیتا ہے۔19 مچھلی کا دماغ الیکٹرانک انجینئر نگ کا یہ بیشل کارنامه از خود کس طرح سرانجام دے سکتا ہے۔کسی کو مکمل یقین اگر ہو بھی کہ مچھلی کے دماغ کا یہ پیچیدہ ڈیزائن کسی باشعور خالق کا تخلیق کردہ نہیں ہے یا اس میں شعوری طور پر کوئی کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے جیسا کہ پروفیسر ڈاکنز کا اصرار ہے تو پھر اسے الیکٹرانک انجینئر نگ کا شاہکار قرار دینایا تو انتہائی سادگی ہے یا دوسروں کو گمراہ کرنے کی غیر ارادی کوشش۔اس سوال کا جواب وہ یوں دیتے ہیں: