الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 483
الهام ، عقل ، علم اور سچائی ++ 461 بات کا اقرار کرتے ہیں کہ زندگی کے ابتدائی اجزائے ترکیبی کی بتدریج تخلیق کیلئے اس سے کھرب ہا کھرب گنا زیادہ وقت درکار ہے جتنا فی الحقیقت گزر چکا ہے۔اور چونکہ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ جاندار اجسام کی از خود تخلیق کیلئے حقیقی وقت کے مقابلہ میں کہیں زیادہ وقت درکار ہے لہذا ان کے پاس اس بات کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا کہ وہ یہ نظریہ پیش کریں کہ زندگی کی تخلیق رفتہ رفتہ جمع ہونے والے عوامل کا نتیجہ ہے۔یہ تو سرا سر اپنا اور قاری کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔کیونکہ جس چیز کو پروفیسر ڈاکٹر صرف ایک ارب سال کے عرصہ میں سمونا چاہتے ہیں امریکہ میں ارب ایک 1 کے بعد 9 صفر اور برطانیہ میں ایک 1 کے بعد 12 صفر پر مشتمل ہوتا ہے ) نیچر کو اس کی تخلیق کیلئے اس سے کہیں زیادہ عرصہ درکار ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ رفتہ رفتہ جمع ہونے والے عوامل کے نتیجہ میں زندگی کی (اتفاقی ) تخلیق کیلئے جتنا عرصہ درکار ہے اسے بیان کرنے کیلئے ایک 1 کے بعد 1000 صفر لگانے پڑیں گے۔گویا دوسرے لفظوں میں سرے سے انہیں وجود کائنات کا انکار کرنا پڑے گا۔لہذا پروفیسر ڈاکنز کو چاہئے تھا کہ کائنات کی حقیقت کو محض ایک واہمہ قرار دے کر اس کا انکار کر دیتے۔66 وو اپنی کتاب کے آخری باب میں پروفیسر ڈاکٹر نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انہیں خدا تعالی یا انتخاب طبعی میں سے کسی ایک کے خالق ہونے کے بارہ میں قطعی فیصلہ کرنا ہے۔بات یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو مانیں یا نہ مانیں ، انہیں یہ حق ہر گز نہیں پہنچتا کہ وہ انتخاب طبعی کو خدا تعالیٰ کے متبادل کے طور پر پیش کریں۔ہمارے نزدیک انتخاب طبعی کو کسی بھی صورت میں خالق قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ انتخاب طبعی خود تخلیق نہیں کر سکتا بلکہ صرف پہلے سے تخلیق شدہ اشیاء پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔یہ امر باعث حیرت ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر جیسا آدمی محض ایک ایسے فرضی قانون کو خدا قرار دے دے جو نہ صرف بہرہ، گونگا اور اندھا ہو بلکہ اس کا کوئی جسمانی یا روحانی وجود تک نہ ہو۔ایسا خیالی اصول تو بہر حال خالق نہیں ہوسکتا۔اگر پروفیسر موصوف خدا کے انکار پر مصر ہیں تو یہ تو طے ہے کہ انہیں کسی قانون کو خدا تعالیٰ کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔لہذا انہیں ایک دفعہ پھر ان دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔یا تو انہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تخلیق تو موجود ہے لیکن پروفیسر صاحب اس کے خالق کو پہچان نہیں پائے یا یہ کہ یہ سب کچھ بغیر خالق کے موجود ہے۔