الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 482 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 482

460 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق ہی ساری تخلیق کا خدا ہے۔لیکن پھر ہیموگلوبن کا بھی کوئی خدا ہونا ضروری ہے اور یہ خدا پروفیسر موصوف کے نزدیک اتفاقات کا اتنا بڑا مجموعہ ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں۔ان کے استدلال کا لب لباب یہ ہے کہ ہیموگلوبن کا وجود میں آنا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کی تخلیق کیلئے جس قد را تفاقات درکار ہیں ان کا ایک وقت پایا جانا ناممکن ہے اگلے مرحلہ پر پروفیسر ڈاکٹر کو اس بات کا منطقی جواب پیش کرنا چاہئے تھا کہ ہیمو گلوبن آخر کیونکر وجود میں آگئی جبکہ ایسا ہونا کسی طور ممکن ہی نہیں تھا۔اس مشکل کا واحد حل یہی ہے کہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اتفاق“ بہر حال ہیموگلوبن کا خالق نہیں ہے۔مزید برآں ہیموگلوبن کی لامحدود پیچیدگیاں اور اس کی بناوٹ کی باریکیاں پکار پکار کر کہ رہی ہیں کہ اتفاق کی بجائے اس کا خالق کوئی اور ہے۔پروفیسر موصوف کے پاس تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔یا تو وہ اس کشتی میں سوار ہوں جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے یا انہیں طوعاً و کرہا اس کشتی میں سوار ہونا پڑے گا جو انہیں بالآخر اصل خالق یعنی خدا تعالیٰ کی بارگاہ تک لے جائے گی۔اس طرح وہ ہستی کباری تعالیٰ کا اقرار کرنے کے قریب تر پہنچ سکتے تھے۔لیکن جونہی انہیں اپنی اس حماقت کا احساس ہوتا ہے تو وہ فوراً خدا سے دور بھاگتے ہوئے ڈارون کے نظریات میں پناہ ڈھونڈتے ہیں جو ان کا مصنوعی خدا ہے اور جس کے بارہ میں انہیں بخوبی علم ہے کہ ہیمو گلوبن کی تخلیق میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔اس امر کی وضاحت کئے بغیر کہ خود ان کا خالق یعنی ہیموگلوبن کیسے وجود میں آیا تھا انہیں ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ انسانی جسم کے خلیات میں پائے جانے والے عجائبات کو ڈارون کے نظریات کی طرف منسوب کریں۔اصل سوال جس کا جواب پروفیسر موصوف کے ذمہ ہے وہ یہ ہے کہ اتفاق کے علاوہ وہ کونسے عوامل تھے جو زندگی کے بنیادی خلیوں کی تشکیل کا باعث بنے۔چنانچہ جینز کو ماحولیاتی عوامل کے زیر اثر ثابت کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں بلکہ جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں الٹا ان کے خلاف جاتی ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قاری کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا کر فرضی مسائل کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں۔اس تجزیہ کی روشنی میں پروفیسر موصوف کا کمپیوٹر کا استعمال اور رفتہ رفتہ جمع ہونے والے عوامل کا نظریہ عبث ٹھہرتا ہے۔وقت کی کمی بیشی کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وہ خود اس