الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 472 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 472

450 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق تحت تخلیق صرف ایک واہمہ ہے۔اس جگہ وہ بیچارے قاری کو فریب کاری سے ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر گھما کر اس کے ذہن کو الجھانے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔وہ دنیا کو تسلیم کرانا چاہتے ہیں کہ انسان کی بنائی ہوئی اشیاء تو سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق بنائی گئی ہیں۔لہذا ان میں مقصد ، منصوبہ بندی اور پیچیدگی کا پایا جانا ضروری ہے جو کسی ذہن کی بالا رادہ کوشش کا نتیجہ ہی ہو سکتا ہے۔کائنات کا ذکر کرتے ہوئے اگر چہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں انسان کی بنائی ہوئی اشیاء کی نسبت کہیں زیادہ عجائبات دکھائی دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس بات پر مصر ہیں کہ چونکہ انسان کی بنائی ہوئی اشیاء کے پیچھے کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے اس لئے لاشعوری طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق کا کوئی مقصد ضرور ہوگا اور اس طرح ہم غلطی سے یقین کر بیٹھتے ہیں کہ اس کے پیچھے بھی کسی باشعور خالق کا ہاتھ ہے۔اپنے اس نظریہ کے حق میں وہ کسی قسم کی دلیل دینے کی بجائے فقط اپنی رائے تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔حالانکہ اس کے برعکس ان کی پیش کردہ ہر مثال کا نتیجہ ان کے اخذ کردہ نتائج کے بالکل برعکس نکلتا ہے۔مثلاً چمگادڑ پر ان کی تحقیق نہایت عمدہ ہے۔چونکہ ہم پہلے ہی چمگادڑ کے متعلق بعض حیرت انگیز امور کا ذکر کر چکے ہیں اس لئے یہاں ہم صرف پروفیسر ڈاکٹر کے بیان کردہ مشاہدات میں سے بعض کا حوالہ دیں گے اور انہیں ان کا وعدہ بھی یاد دلائیں گے جو ان کی اپنی کتاب کے دیباچہ کے صفحہ اول پر مذکور ہے کہ: اس پر اسرار حقیقت کے بیان کے بعد میرا دوسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ میں اس حقیقت کا حل پیش کروں۔2 لیکن افسوس کہ وہ یہ وعدہ پورا نہیں کر سکے۔اپنی کتاب کے باب بعنوان Good Design کے بیشتر حصہ میں انہوں نے چمگادڑ پر ہی قلم اٹھایا ہے۔وہ لکھتے ہیں: چمگادڑ کے دماغ کے خلیات انتہائی اعلیٰ کارکردگی پر سیٹ کئے گئے برقی عجائبات کا مجموعہ ہیں۔جن میں کسی کمپیوٹر کی طرح وہ تمام پروگرام موجود ہیں جو انہیں صدائے بازگشت کے تمام قوانین کو سمجھنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ان کے چہرے عموماً بگڑی ہوئی