الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 471 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 471

وقت کا اندھا، بہرہ اور گونگا خالق اب ہم حسب وعدہ رچرڈ ڈاکنز (Richard Dawkins) جواب پروفیسر ڈاکنز ہیں، کی کتاب 'The Blind Watchmaker' کا جائزہ لیتے ہیں۔شروع شروع میں تو اس کتاب کا مطالعہ کچھ مشکل تھا کیونکہ پروفیسر ڈاکٹر زندگی کے حقیقی مسائل کو جاننے اور ان کی موجودگی کو تسلیم کرنے کے باوجود ان کا سامنا کرنے سے کتراتے دکھائی دیتے ہیں۔وقت ضائع کئے بغیر وہ اس کتاب میں خود ساختہ نظریات کے باہمی تضادات کو بڑی چابکدستی سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے اٹھائے گئے تمام نکات پر گفتگو کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر غیر ضروری اور غیر متعلق ہیں۔تاہم جب وہ زندگی کے حقائق اور اس کے سربستہ رازوں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ خالصہ ایک سائنسدان کی حیثیت سے ایسا کرتے ہیں اور بدنیتی سے حقائق کو مسخ نہیں کرتے۔پروفیسر ڈاکٹرز کا یہ انداز یقیناً قابل تعریف ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کا یہی انداز انتخاب طبیعی کی توجیہ کو انتہائی منفی رنگ میں پیش کرتا ہے۔حیاتیاتی ارتقا کے مطالعہ سے کسی رنگ میں بھی یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ زندگی اپنی تمامتر پیچیدگیوں کے ساتھ پہلے سے موجود کسی باشعور خالق ہستی کے بغیر معرض وجود میں آئی ہو۔انتخاب طبعی بہر حال ایسا وجود نہیں ہے۔اسی منطقی نتیجہ سے بچنے کیلئے وہ ہوشیاری سے اپنی ہی بنائی ہوئی کمپیوٹر گیمز اور حیوانی جسم کی ساخت کے عجائبات کی تصوراتی دنیا میں پناہ لیتے ہیں اور پھر بظاہر وہ انسان کی بنائی ہوئی مشینوں اور زندگی کی پیچیدگیوں کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ قاری کو یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان کے بنائے ہوئے عجائبات کی پیچیدگیاں تو کسی خاص مقصد کے حصول کیلئے سوچ سمجھ کر بنائی گئی ہیں جبکہ قدرت کی تحقیق میں موجود پیچید گیاں اگر چہ مشینوں سے کہیں زیادہ حیرت انگیز ہیں لیکن ان کی تخلیق کے پیچھے کوئی خاص مقصد یا منصو بہ کارفرما نہیں ہے۔وہ قاری کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ قدرت کے عجائبات اور ان کی کسی خاص مقصد کے 449