الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 473
الهام ، عقل ، علم اور سچائی انسانی شکلوں سے مشابہ ہوتے ہیں جو اس وقت تک بھیانک دکھائی دیتے ہیں جب تک ہمیں اس کی وجہ معلوم نہ ہو جائے۔دراصل ان کی یہ شکل انہیں انتہائی اعلیٰ درجہ کے ایسے آلات بنادیتی 451 ہے جو الٹرا ساؤنڈ آوازوں کو مطلوبہ سمت میں نشر کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔3 پروفیسر ڈاکٹر نہایت عمدگی سے اس معمہ کو حل کرتے اور مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے صدائے بازگشت کے قوانین کو استعمال کرنے میں چمگادڑ کی اعلیٰ درجہ کی صلاحیتوں کو ان الفاظ میں زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہیں: جب ایک چھوٹی سی بھورے رنگ کی چمگادڑ کسی کیڑے کو قریب پا کر اسے شکار کرنے کے لئے اس کی طرف حرکت کرنا شروع کرتی ہے تو اس کے منہ سے نکلنے والی صوتی لہروں کے ارتعاش کی رفتار کسی مشین گن کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہو جاتی ہے اور جب یہ حرکت کرتے ہوئے شکار پر جھپٹتی ہے تو ارتعاش کی یہ رفتار 200 دفعہ فی سیکنڈ تک پہنچ جاتی ہے۔پھر وہ یہ سوالات اٹھاتے ہیں کہ : 400 اگر چمگادڑ اپنی صوتی لہروں کی رفتار کو 200 دفعہ فی سیکنڈ تک بڑھانے کی استعداد رکھتی ہے تو پھر وہ ہمیشہ ہی اس رفتار کو برقرار کیوں نہیں رکھتی۔اگر چمگادڑ اپنے stroboscope سے اس رفتار کو کم و بیش کرنے کی مخصوص صلاحیت رکھتی ہے تو پھر وہ اسے ہمیشہ انتہائی بلند صوتی ارتعاش کی سطح پر قائم کیوں نہیں رکھتی تاکہ ماحول میں اچانک پیدا ہونے والی صورت حال سے بآسانی نمٹا جا سکے۔4 ان سوالات کا وہ خود ہی درج ذیل جواب دیتے ہیں: اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ صوتی لہروں کی یہ تیز رفتاری صرف قریبی ہدف کے لئے ہی مناسب ہے۔اگر کسی آواز کی لہر اپنے سے پہلی لہر کے معا بعد بہت قریب سے گزرے تو وہ اس پہلی آواز کے کسی دور کے ہدف سے ٹکرا کر صدائے بازگشت کی صورت میں واپس لوٹتے وقت اس کے ساتھ خلط ملط ہو سکتی ہے۔5