الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 454

438 عضویاتی نظام اور ارتقا چمگادڑوں کے ہزاروں لاکھوں سگنلز میں مزاحم نہیں ہوتی۔انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ کس طرح انتخاب طبعی نے ایسا کان، گلا اور دماغ تخلیق کیا ہوگا جو اس مہارت اور کامل ہم آہنگی سے مصروف عمل ہے۔کسی انسان میں یہ قدرت نہیں کہ وہ چمگادڑوں کی یہ آوازیں سن سکے۔ان میں سے اکثر آوازیں ایسی بیچ پر ہیں جنہیں انسانی کان نہیں بن سکتے۔اگر آوازوں کا یہ سلسلہ سنا جاسکتا تو انسانی کانوں کے پردے پھٹ جاتے لیکن خوش قسمتی سے ہم چمگادڑوں سے بھرے ہوئے جنگل کو بالکل خاموش پاتے ہیں۔جس طرح کسی انسانی عضو کا عدم استعمال اسے بیکار کر دیتا ہے بعینہ آنکھیں ایک لمبے عرصہ تک عدم استعمال کی وجہ سے سکڑ کر بیکار ہو جاتی ہیں۔لمبے عرصہ تک کسی عضو کے استعمال نہ کرنے کے نتیجہ میں وہ سکڑنے لگتا ہے یہاں تک کہ کم ہوتے ہوتے بالآخر معدوم ہو جاتا ہے۔یہ زندگی کا ایسا عمومی قانون ہے جو کسی کو بھی نہیں بخشا۔چنانچہ کپڑے مکوڑے کھانے والی چمگادڑوں کی آنکھیں سکڑ کر اتنی چھوٹی رہ جاتی ہیں کہ دیکھنے والے کو محض سوراخ دکھائی دیتے ہیں۔لیکن پھل کھانے والی چمگادڑوں کی آنکھیں بڑی اور خوبصورت ہوتی ہیں جن سے وہ صاف صاف دیکھ سکتی اور جگہ کی تعین کر سکتی ہیں۔چمگادڑوں کے کان کے بارہ میں اور پھر انسانی کان کی پیچیدگیوں کے بارہ میں ہم نے مندرجہ بالا سطور میں جو گفتگو کی ہے خصوصاً چمگادڑ کے کان کے اس عضلہ کے بارہ میں جو انقطاع اور رابطہ کا بے مثل کام کرتا ہے ، نظریہ ارتقا کے مداحین کے لئے ایک لاجواب چیلنج ہے۔اس چھوٹے سے عضلہ کا کام ختم کر دیں جو صرف چمگادڑ کے کان میں اپنا کام کرتا ہے تو کیڑے مکوڑے کھانے والی چھ گادڑوں کی قوت سماعت بالکل بیکار ہو کر رہ جائے گی۔اس عضلہ کی تخلیق اور چناؤ میں انتخاب طبعی کیسے اور کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟ ساخت کے اعتبار سے اس کا عین موقع اور محل پر واقع ہونا ہرگز انتخاب طبعی کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔انتخاب طبعی کا صرف یہ کام ہے کہ اس عضلہ میں واقع ہونے والی اتفاقی اور جینیاتی تبدیلیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکے۔کسی مخصوص کام کے لئے بنائے گئے عضو کے بارہ میں یہ خیال ہی ناممکنات میں سے ہے کہ یہ کسی ڈیزائن، ٹیکنالوجی اور کامل علم کے بغیر ہی محض اتفاقی تخلیقی قوتوں کے ذریعہ وجود میں آگیا ہو بلکہ اس قسم کے خاص آلات تو خاص مقصد کیلئے بنائے جاتے ہیں اس لئے انہیں محض اتفاقی تخلیق قرار نہیں دیا جا سکتا۔۔