الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 425 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 425

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 411 لیکن بالآخرتان یہیں پر آن کر ٹوٹتی ہے کہ ممتاز سیکولر متقین کے بیان کے مقابلہ میں یہ بیان ایک ایسے شخص کا ہے جو براہ راست اس شعبہ سے تعلق نہیں رکھتا۔چنانچہ آخر میں اس بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم اپنے اخذ کردہ نتائج کی تائید میں بعض ماہر سائنسدانوں کے حوالے پیش کرتے ہیں جنہیں یہ اعتراف کرنا پڑا کہ مسئلہ تخلیق کا واحد حل ایک خالق کل ہستی کے وجود کے اقرار میں ہے۔اسی نے تخلیق کے ہر مرحلہ پر نہ صرف مختلف امکانات کو پیدا کیا بلکہ ارتقا کی ہرائی منزل پر موزوں ترین راستہ کا انتخاب بھی خود ہی کیا۔ارتقا کے اس سفر میں ہر مرحلہ پر اسی کی منصوبہ بندی ایک معین مقصد کے تحت کارفرما ہے۔فرینک ایلین (Frank Allen) جو مینیو با (Manitoba) یونیورسٹی کینیڈا میں حیاتیاتی طبیعیات کے پروفیسر ہیں اور کینیڈا کی رائل سوسائٹی کی طرف سے ٹوری طلائی تمغہ بھی حاصل کر چکے ہیں، لکھتے ہیں: کرہ ارض پر زندگی کیلئے سازگار ماحول بے شمار عوامل کا متقاضی تھا جنہیں محض اتفاق کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔3 پروفیسر ایلین کا بیان بڑا واضح ہے یعنی ارتقا کے اس طویل سفر میں ہمیں جو منصوبہ بندی، ترتیب اور ہم آہنگی نظر آتی ہے اسے کسی صورت میں بھی اتفاق سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔لحمیاتی خلیات کی پیچیدگی اور ارتقائے حیات کی تعمیر و ترقی میں ان کے اہم کردار پر بحث کرتے ہوئے پروفیسر ایلین اس خیال کو کلیڈ رد کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ اتفاقا وجود میں آ سکتا ہے۔