الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 424
410 شطرنج کی بازی یا اتفاقات کا کھیل سے ایک بزرگ و برتر خالق کا ہاتھ دکھائی دے گا۔اگر پہلے منظر کو جوئے کے کھیل سے تشبیہ دی جائے تو دوسرے منظر کو شطرنج کی بازی قرار دینا زیادہ مناسب ہو گا جہاں ہر پیادہ، بادشاہ ملکہ، فیل اور رخ (rook) کی حرکات و سکنات کے پیچھے ایک عظیم الشان مدیر کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ظاہر ہے کہ ان پیچیدگیوں اور مشکلات کا حل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ایک قادر اور حکیم ہستی اس سارے کارخانہ کو چلا رہی ہے۔گویا شطرنج کی بازی کھیلی جارہی ہے جو تمام کرہ ارض کیا خشکی اور کیا تری، کیا وادیاں اور کیا پہاڑ سب پر محیط ہے۔الغرض یہ بساط اس قدر وسیع ہے کہ عدم سے وجود کے اس کھیل میں ان گنت ادا کار اپنا اپنا کردار ادا کرتے چلے جارہے ہیں۔ان کا کام موت کے اس گہرے سکوت کو توڑنا ہے جو تمام کرہ ارض پر ساڑھے چار ارب سال پہلے چھایا ہوا تھا۔کیا یہ واقعی شطرنج کی بساط تھی جس میں یا تو ایک طرف محرک از لی جو ترتیب، دانائی، منصوبہ بندی، دور بینی اور اقتدار کا نمائندہ تھا یا یہ محض فساد، ابتری یا جوئے کا ایسا کھیل تھا جس کے دونوں طرف فساد ہی فساد تھا یعنی اس کا رزار حیات و ممات میں فساد اور ابتری کا دور دورہ تھا اور حدنگاہ تک بدنظمی اور فتور پھیلا ہوا تھا۔بالفاظ دیگر اس کھیل کے نہ تو کوئی قواعد وضوابط تھے اور نہ ہی کوئی مقصد۔اس کے باوجود شعور سے عاری کائنات سے بغیر سوچے سمجھے یہ توقع رکھی گئی کہ افراتفری اور فساد میں سے کوئی بھی نہیں جیتے گا۔یا تو یہ دونوں باہمی کشمکش کا شکار ہو کر فنا ہو جائیں گے یا پھر انتشار، نا امیدی اور مایوسی کے ہاتھوں تنگ آکر خود کشی کر لیں گے۔ہارا کری کی رسم کا کیا ہی عظیم مظاہرہ ہے! افرا تفری اور فساد کی باہمی کشمکش کے نتیجہ میں کسی مربوط نظام کے وجود میں آنے کے حامیوں کیلئے اس کا واحد حل شاید ہارا کری میں ہی موجود ہے۔انتشار کی دیوی کے پجاری اپنے نقطہ نظر کی تائید میں فقط جدید حسابی خرافات کے ذریعہ اسے خوب خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اگر فساد کا فساد کے ذریعہ ہی خاتمہ ہو جائے تو نتیجہ یا تو کوئی مربوط نظام معرض وجود میں آئے گا یا پھر کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔لہذا سرے سے کوئی مخمصہ کوئی معمہ یا کوئی عقدہ باقی ہی نہیں رہ جاتا۔خس کم جہاں پاک! اب تک اٹھائے جانے والے مباحث سے ہم نے بعض ناگزیر منطقی نتائج اخذ کئے ہیں۔