الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 426
412 شطرنج کی بازی یا اتفاقات کا کھیل چونکہ صرف ایک لحمیاتی سالمہ کے اتفاقاً بننے کیلئے 10248 سال کا عرصہ درکار ہے۔اس لئے جہاں تک ارتقا کی معلوم مدت کا تعلق ہے اس میں مندرجہ بالا اعداد وشمار کا سمونا قطعاً ناممکن ہے۔یادر ہے کہ تخلیق کے تمام حیرت انگیز مراحل صرف چار ارب سال میں طے ہوئے ہیں۔سائنسدان لیبارٹری میں اپنے تجربات مسلسل نگرانی میں سرانجام دیتے ہیں۔ایک خفیف سی غلطی بھی تجربہ کو نا کام کر سکتی ہے جس کی وجہ سے سارا تجربہ دوبارہ کرنا پڑتا ہے۔اس لئے تمام تجربہ کی نگرانی نہایت بیدار مغزی سے کرنا پڑتی ہے کہ کہیں اتفاقی طور پر بھی کوئی غلطی سرزد نہ ہو جائے۔ارتقا کے اس سفر کے دوران مختلف مراحل میں موجود ماحول کو کسی صورت بھی سازگار قرار نہیں دیا جا سکتا۔بلکہ جان ہارگن (John Horgan) کے مطابق: زندگی کا وجود اور اس کا ارتقا بعض اوقات تو نہایت نامساعد حالات میں اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہا ہے۔4<< ارتقا پذیر انواع میں کسی نئی خصوصیت کے پیدا ہونے اور قائم رہنے کیلئے صرف مسلسل اور طویل مدت پر مبنی سازگار ماحول کا ہونا ہی کافی نہیں کیونکہ وقت خود خالق نہیں۔بلکہ اس کی مثال ایک وسیع و عریض کڑا ہے کی سی ہے جس میں تعمیری یا تخریبی تعامل جاری ہے۔مثلاً اگر ہم ایک کڑا ہے میں مختلف عناصر یونہی بغیر کسی منصوبہ بندی اور ترتیب کے ڈال دیں تو وقت از خود اس مجموعہ کو مفید مصنوعات میں نہیں بدل سکتا۔سائنس دان جو فطرت (Nature) میں پائے جانے والے تخلیقی عوامل کو تجربہ گاہوں میں مصنوعی طور پر ہو بہو پیدا کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے ان تجربات کو اپنی مکمل نگرانی اور رہنمائی میں سرانجام دیتے ہیں۔تا ہم بڑے بڑے سائنسدانوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کے باوجود بعض اوقات ایسے تجربات پر ان کی محنت اکارت چلی جاتی ہے۔تجربہ گاہ کو ذرا وقت کے رحم وکرم پر چھوڑ کر تو دیکھیں پھر پچاس ساٹھ سال بعد جائزہ لیں کہ امتداد زمانہ سے اس میں کیسی بے ترتیبی اور بدنظمی پھیل گئی ہے۔اگر بر وقت سوچے سمجھے اقدامات نہ کئے جائیں تو وقت ہر ترتیب اور تنظیم کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔