الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 16
16 فرد اور معاشرہ پرلے درجہ کے مکار تھے جو خود تراشیدہ خداؤں کے نام پر جان بوجھ کر عوام الناس کو دھوکہ دیتے رہے۔کیا کہنے اس منطق کے! یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بانیان مذاہب قوانین خود بناتے ہیں اور نام خدا تعالیٰ کا لیتے ہیں تا کہ بقول ان کے سادہ لوح عوام کو نام نہاد شرعی قوانین کی زنجیروں میں جکڑا جا سکے اور اس طرح یہ دھوکہ باز گروه ( نقل کفر کفر نہ باشد ) خدا تعالیٰ کے نام پر اپنے مفادات کیلئے حکومت کرتا رہے۔مذہبی معاشرہ کے بارہ میں یہ تصور تو ماہرین عمرانیات کا ہوا۔کارل مارکس بھی مذہب کے اس تصور سے پوری طرح متفق دکھائی دیتا ہے۔اس کے نزدیک مذہب محنت کش طبقہ کو ہمیشہ حال مست رکھنے کا ایک نشہ ہے تا کہ متوسط طبقہ کے ہاتھوں اسے اپنے بے رحم استحصال کا شعور ہی پیدا نہ ہو سکے۔اس کے نزدیک یہ طاقتور نشہ جو محنت کش طبقہ کو مد ہوش رکھنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، اُس ضابطہ اخلاق پر مشتمل ہے جسے جملہ مذاہب عالم کی تائید حاصل ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہمیشہ سے اخلاقیات کا اللہ تعالیٰ کے تصور کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔اس حوالہ سے اخلاقیات انسانی کردار کی تہذیب و تشکیل کا باعث بنتی ہے۔