الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 17
اسلامی مکاتب فکر اسلامی نقطۂ نظر دو مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے پیش کیا جا سکتا ہے۔اول تو یہ کہ اسے مختلف مسلم مظرین کی علمی کاوشوں کے تجزیہ کی روشنی میں بیان کیا جائے اور دوم یہ کہ اسے قرآنی تعلیمات، الله سنت رسول ﷺ اور احادیث کی روشنی میں براہ راست پیش کیا جائے۔اسلامی تعلیمات کے بارہ میں اول الذکر طریق کی تفہیم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکوک اور غیر مستند ہوتی چلی جارہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مفکرین اپنے استنباط میں، جوضروری نہیں کہ جائز اور معقول بھی ہو، روز بروز کٹر ہوتے چلے جاتے ہیں۔حالانکہ جسے وہ اسلام قرار دیتے ہیں ابتدائی طور پر تو وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے بارہ میں ان کے اپنے فہم پر مبنی ہوتا ہے۔وہ لوگ جو قرآن وسنت سے استنباط کرتے ہیں اگر اقلیت کے اصولوں پر سختی سے کار بند رہیں تو ایسی صورت میں انہیں دوسروں سے الگ حیثیت دی جاسکتی ہے۔آگے چل کر ہم بنیادی مسائل کا ایک تجزیاتی مطالعہ پیش کریں گے۔سردست ہم قرون اولیٰ کے مسلمان علماء، دانشوروں اور فلسفیوں کے اول الذکر گروہ کے ان افکار کی وضاحت کریں گے جن کے پس منظر میں اس دور کے مختلف اسلامی مکاتب فکر کی تشکیل ہوئی۔تاریخ اسلام کے ابتدائی دور میں دو قسم کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں: اول: سب سے زیادہ غالب اور طاقتور اثر قرآن اور سنت کا تھا جس کی وجہ سے تصور علم میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا ہوئی اور مطالعہ اور تحقیق مختلف جہتوں میں بے پایاں وسعت سے ہمکنار ہوئے۔دوم: یونانی فلسفہ اور سائنس میں روز افزوں دلچپسی نیز ہندوستان، ایران اور چین کے کلاسیکی فلسفہ کے مطالعہ نے بھی مسلمانوں کے فکری ارتقا میں ایک اہم کردار ادا کیا۔اس کے نتیجہ میں بہت سے بیرونی فلسفے آزادانہ طور پر یا اسلامی تعلیمات کے اختلاط سے مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔17