الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 408 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 408

396 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح یہ معاملہ اس وقت مزید الجھ جاتا ہے جب اکثر مچھر اپنا host یعنی میزبان تلاش کرتے وقت ایک خاص نوع حیات ہی کو چنتے ہیں۔مثلاً ہو سکتا ہے کہ مچھر کی ایک خاص نوع صرف گائے کے پیدا کردہ محرکات پر رد عمل تو ظاہر کرے لیکن انسانی محرکات پر کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہ کرے۔سائنسدانوں کے اندازہ کے مطابق مچھر کے اس طرز عمل کا ارتقا Mesozoic (6 کروڑ پچاس لاکھ سال قبل ) دور میں ہوا۔وو مسکن بنایا۔جس میں خزندوں، پرندوں اور ممالیہ جانوروں نے زمین کو باقاعدہ اپنا بعض سائنسدانوں کے نزدیک جب سے پرندوں، ممالیہ جانوروں اور ڈائنو سار میں اپنے بچوں کے لئے والدینی جبلت بیدار ہوئی ہے تب سے مچھر کو مزید محفوظ اور موافق ماحول مل گیا ہے۔مچھر کیلئے ان گھونسلوں کے اندریا ان کے قرب و جوار میں رہنا نہایت سودمند ثابت ہوا جہاں پرندوں کے بچے پلتے ہیں۔یہی صورت حال جنگل میں رہنے والے درندوں کی کچھاروں اور ڈائنو سار کی رہائش گاہوں کی ہوتی ہوگی جہاں ان کے بچوں کی پرورش گا ہیں تھیں۔سائنسدانوں کے خیال میں اس امر نے مچھروں کیلئے ایسے مواقع مہیا کئے کہ وہ جب چاہیں بلا روک ٹوک جانوروں کا خون چوس سکیں۔اس عجیب و غریب نظریہ پر اسی صورت میں سنجیدگی سے غور کیا جاسکتا ہے جب پہلے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مادہ مچھر آسان شکار تلاش کرنے سے پیشتر ایک قسم کی خون چوسنے والی مشین میں تبدیل ہو چکی تھی۔یہ قیاس کسی بھی صورت میں کسی ایسے طریق کار کی نشاندہی نہیں کرتا جسے خون چوسنے والی مادہ مچھر کے ارتقا کا ذمہ دار قرار دیا جا سکے۔مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ انسانی جسم پر مادہ مچھر کے بیٹھنے کے پانچ سیکنڈ کے اندر اندر اگر انسان کسی قسم کی کوئی حرکت کرے تو چھر فورا اڑ جاتا ہے۔اگر میزبان کی تلاش کے سلسلہ میں چھر کے جبلی طرز عمل کی پیچیدگیوں پر غور کیا جائے تو خون چوسنے کی خاصیت کا اتفاقی طور پر پیدا ہو جانا بعید از قیاس دکھائی دیتا ہے۔(ملاحظہ ہو پلیٹ نمبر 5)۔خون چوسنے والی مادہ مچھر کو اپنے میزبان کے خون تک رسائی حاصل کرنے کیلئے اپنے نظام میں محض چند بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس کے لئے ایسے ایسے موزوں آلات بھی درکار