الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 409
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 397 تھے جنہیں یہ جلد میں پیوست کر کے خون کی شریانیں تلاش کر سکے۔علاوہ ازیں اسے نقل و حمل کے ایسے نظام کی بھی ضرورت تھی جس کے ذریعہ خون ایک ایسی تحصیلی تک پائی جائے جو پودوں کا رس جمع کرنے والی تھیلی سے یکسر مختلف ہو۔اس تمام مچھروں حتی کہ خون چوسنے والی مادہ مچھر کی غذا کا بنیادی جزو ہے کیونکہ اسے مخصوص اوقات میں ہی خون کی ضرورت ہوتی ہے (ملاحظہ ہو پلیٹ نمبر 6)۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے مچھر کے ارتقا سے متعلق سائنسی لٹریچر زیادہ تر خاموش ہے۔مختلف حشرات کے آغاز پر بحث کرنے والے سائنسدان بتاتے ہیں کہ: وو حشرات کی بعض مشہور انواع بہت ترقی یافتہ ہیں۔مثلاً بہت سے طفیلئے جیسے 900 Culicidae مچھر جن کی ارتقائی تاریخ غیر واضح اور بالکل مبہم ہے۔سائنسدانوں کے نزدیک اس ابہام کی وجہ متحجرات (fossils) کا نا کافی ریکارڈ ہے۔لیکن یہ تو کوئی دلیل نہ ہوئی۔چاہیئے تو یہ تھا کہ ڈارون کے نقش قدم پر چلتے اور وہ ایسا کر بھی سکتے تو تھے۔ڈارون نے اپنے نظریہ ارتقا کو پیش کرتے وقت جزائر گیلا پاگوس (Galapagos) میں پائے جانے والے زندہ فیجز (Finches) کا مطالعہ کیا نہ کہ ان کے متحجرات کا۔اسی طرح متحجرات کی مکمل اور تفصیلی تاریخ کی عدم موجودگی میں بھی چاہئے تو یہ تھا کہ مچھر کے ارتقائی عمل کا تجزیہ کیا جاتا۔دوسرے حشرات کے مقابل پر موجودہ دور کے مچھر کی خصوصیات یا ایک ہی نوع کے نر مچھر کی نسبت مادہ مچھر کا اس غرض سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے کہ مچھر موجودہ شکل اختیار کرنے سے پہلے کن کن مراحل سے گزر چکا ہے۔قبل اس کے کہ ہم مچھر کی منفرد خصوصیات کا تجزیہ کریں آئیے مچھر کے ارتقا کے بارہ میں سائنسدانوں کی طرف سے حال ہی میں پیش کردہ امکانی منظر کا جائزہ لیں۔ان کے خیال میں مچھر کے آباؤ اجداد فقار یہ جانوروں (Vertebrates) کا خون چوسنے کے دور سے پہلے نرم جلد والے حشرات پر چلتے تھے۔بعد ازاں اپنی ارتقائی تاریخ کے کسی مرحلہ پر بالغ مچھر فقار یہ جانوروں کے خون پر پلنے لگے۔10 اس نظریہ کے مطابق ان کے آباؤ اجداد کے منہ کے مختلف حصوں میں پہلے ہی ایسی تبدیلیاں واقع ہو چکی تھیں جو موجودہ حتمی شکل میں پائے جانے والے مچھر کے منہ کے مختلف حصوں سے مشابہ تھیں۔تاہم یہ معلوم شدہ حقیقت ہے کہ یہ حشرات لاروا کے