الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 355 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 355

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 349 پانی کے مالیکیولز سے دور ہٹتے ہیں۔ہائیڈ رو فلک پانی کو جذب کرتے رہتے ہیں اور باہر موجود پانی کو اندر آنے دیتے ہیں۔جبکہ ہائیڈ رو فوبک پانی کو پرے دھکیلتے ہیں اور خلیہ کے اندرونی ماحول کو ترجیح دیتے ہیں۔یہ دونوں چربی کی دو تہوں کے درمیان آگے پیچھے بارہ دفعہ اس طرح بنے گئے ہیں کہ اپنی شکل وصورت تبدیل کرتے رہتے ہیں جس کے دوران ان کے پاس جو شکر یا لحمیات وغیرہ ہوتے ہیں انہیں پہلے ایک مسام دار جعلی سے گزار کر پر وٹو پلازم تک پہنچاتے ہیں۔پھر جب پر وٹو پلازم سے کوئی چیز خون میں پہنچانا مقصود ہو تو پہلے اس مادہ کو یہ چربی کی دیوار تک پہنچاتے ہیں جو کہ آگے ایک اور خاص مسام دار جھلی میں سے گزر کر خون میں شامل ہو جاتا ہے۔چنانچہ اس طرح ٹرانسپورٹر آسی لیٹر ( Transporter Oscillator): گلو کوز سے جڑنے والے کیمیکلز کو خلیہ کی جھلی کے دونوں اطراف میں منتقل کرتے رہتے ہیں۔حرکی (Kinetic) کے مطالعہ سے جس میں سے بہت سا کام ڈارٹ ماؤتھ Dart) (mouth میڈیکل سکول میں ہوا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ یہ آمد ورفت غیر معمولی تیز رفتاری سے ہوتی ہے۔گلوکوز جب ٹرانسپورٹرز کیمیکلز کے ساتھ جڑ جاتا ہے تب یہ آمد ورفت تقریباً 900 مرتبہ فی سیکنڈ تک بڑھ جاتی ہے۔2 ایک علیم وخبیر اور مد بر بالا رادہ ہستی کے بغیر جسے یہ لوگ شناخت نہیں کر سکے اتنا عمدہ نظام نہ تشکیل پاسکتا ہے اور نہ ہی اتنی خوبی سے خود بخود جاری رہ سکتا ہے۔طیفی (Spectroscopic) شہادت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ لحمیات کی دولڑیاں ایک دوسرے سے اس طرح لپٹی ہوئی ہیں کہ ان کے ایک طرف ہائیڈ رو فلک لحمیات ہیں اور دوسری طرف ہائیڈرو فوبک۔اس نظام کو دیکھ کر انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ یہ باریک اور پیچیدہ نظام ہرگز کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک با مقصد منصوبہ بندی ہے۔خلیہ کی توانائی کی ضروریات کے علاوہ ایک اور مسئلہ خلیہ کے اندر اور باہر نمکیات کے تناسب کو متوازن رکھنا ہے۔خلیہ میں موجود ضروری نمکیات کا ایک خاص تناسب قائم رہنا چاہئے۔یہ تناسب خلیہ کے باہر موجود الیکٹرولائٹ (Electrolyte) محلول میں پائے جانے والے نمکیات کے تناسب سے بہت مختلف ہے۔مثلاً خلیہ کے باہر سوڈیم آئن اندر کی نسبت دس گنا زیادہ تعداد