الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 356

350 بقا : حادثه یا منصوبه بندی ؟ میں ہیں۔اگر گلو کوز کو خلیہ میں داخل کرنے کیلئے عام سادہ مسام ہوتے تو سوڈیم آئن بھی ساتھ ہی خلیہ میں جا کر اس کے اندر دس گنا زیادہ تعداد میں اکٹھے ہو کر اس کی تباہی کا باعث بن جاتے۔سوڈیم آئن کا صحیح تناسب میں مسلسل انجذاب بھی خلیہ کیلئے ضروری ہے اور یہ ایک تکنیکی معجزہ ہے کہ قدرت نے اس کا بھی خیال رکھا ہے کہ چربی کی تہوں میں خصوصی والو موجود ہیں جن کے کھلنے پر ہر سیکنڈ میں تقریباً ایک کروڑ سوڈیم آئن خلیہ کی جھلی میں سے گزر کر اندر داخل ہوتے ہیں۔یہ رفتار گلوکوز کے اندر جانے کی رفتار سے ایک لاکھ گنا زیادہ ہے۔3 کیا ہی تیز رفتار ہے! لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔اس مطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ زندگی کو اپنی بقا کیلئے بالکل ابتدا سے ہی مسلسل حفاظت کی ضرورت پڑتی ہے۔مظاہر فطرت کا مطالعہ کریں تو ایک اور جگہ ہمیں مختلف طریق پر یہی مقصد حاصل ہوتا دکھائی دیتا ہے جہاں موت بالکل مختلف انداز میں زندگی کی خدمت پر مامور ہے۔یہاں شرح اموات زندہ بچ جانے والوں کی نسبت بہت بڑھ جاتی ہے۔گو یہ بات اب تک اٹھائی جانے والی بحث کے بظاہر بالکل برعکس ہے لیکن در حقیقت اس بحث کو مزید تقویت دیتی ہے کہ داستان حیات میں کوئی چیز اتفاقی یا حادثاتی قرار نہیں دی جاسکتی۔قدرت کا پیدا کیا ہوا ہر قانون اور ہر منصوبہ کسی نہ کسی پہلو سے زندگی کیلئے مفید ہے۔یہاں ہم ڈارون کے نظریہ 'بقائے اصلح کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔اس اصول کے مطابق زندگی کے ارتقا کیلئے قدرت میں انتخاب کا ایک خود کار نظام جاری ہے۔یہ آہستہ رو اور مسلسل جاری نظام اس وقت بہت نمایاں ہو جاتا ہے جب کسی نوع حیات کو اپنی بقا کیلئے کوئی چیلنج در پیش ہو۔یہ اصول جانوروں کی پوری زندگی میں کارفرما ہوتا ہے۔شکاری جانور جب زمین پر یا فضا میں اپنے شکار کا تعاقب کرتے ہیں تو وہ کمزوروں کو مسلسل ختم کرتے رہتے ہیں۔شکاری جانور یقینا شعوری طور پر یہ تمیز نہیں کرتے بلکہ یہ ایک طبعی بات ہے کہ طاقتور، تیز رفتار اور نسبتاً زیادہ ہوشیار جانوروں کے بیچ جانے کا زیادہ امکان ہے۔اسی طرح عمل تولید کے وقت ایک طاقتور اور مضبوط نر کمزور کی نسبت جنسی اختلاط میں کامیابی کا زیادہ امکان رکھتا ہے۔چنانچہ آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ موت دراصل زندگی کی خدمت