الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 354
348 بقا : حادثه یا منصوبه بندي ؟ کو خلیہ میں داخل ہونے سے کمال مہارت سے روکتی ہیں۔مگر غذا کے راستہ میں روک نہیں بنتیں جو باہر سے ان تہوں سے ہوتی ہوئی مسلسل اندر جاتی رہتی ہے تاہم یہ دفاعی اقدام بجائے خود بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے جن میں سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر چربی کی ان تہوں سے کوئی مائع اندر جاہی نہیں سکتا تو پھر خلیہ کی زندگی کیلئے نہایت ضروری شکر اور آکسیجن کے مالیکیولز کس طرح اندر جاتے ہیں؟ اپنی زندگی کے ہر سیکنڈ کے لاکھویں حصہ میں بھی خلیات کو شکر، انسولین ، آکسیجن اور دیگر ضروری نمکیات درکار ہوتے ہیں۔خون کے ان چھوٹے چھوٹے ذرات کو مدنظر رکھتے ہوئے متضاد قسم کی مشکلات پر غور کریں تو اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے قوانین قدرت کا دقیق علم اور نہایت اعلیٰ درجہ کی تکنیکی مہارت درکار ہے۔مرکزه(Nucleus) اور پروٹو پلازم (Protoplasm) کوکسی بھی غیر ضروری مادہ کی دخل اندازی سے بچانے کیلئے ایک طرف تو دوہری حفاظتی تہ کے حصار میں رکھا گیا ہے اور دوسری طرف انہیں ان تہوں کے پار توانائی کی مسلسل فراہمی درکار ہے۔اس مقصد کیلئے قدرت نے جو طریق اختیار کیا ہے وہ اتنا عمدہ اور اتنا پیچیدہ ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔یہ بات ناقابل فہم ہے کہ یہ منصوبہ اندھے اتفاقات کا نتیجہ ہو۔لازم تھا کہ گلوکوز کے مالیکیولز کو خلیہ کے اندر لے جانے والے لحمیات کی اندرونی پیچیدہ بناوٹ اور ترتیب ضرورت کے عین مطابق ہو۔اسی طرح ضروری تھا کہ وہ سب اقدامات کئے جاتے جن سے گلوکوز حاصل کرنے والے ہر خلیہ کو ان لمیات کے کردار سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جاتا۔بعض ایسے قارئین جو سائنسی اصطلاحات سے ناواقف ہیں شاید اس مضمون کو پوری طرح نہ سمجھ سکیں مگر ہماری کوشش یہی ہے کہ ایسا طریق اختیار کیا جائے جو ایک عام قاری کیلئے بھی قابل فہم ہو۔رسد کا یہ نظام اس قدر عمدگی سے وضع کیا گیا ہے کہ اس بارہ میں کچھ بھی بیان نہ کرنا زیادتی ہوگی۔اللہ تعالی نے یہ نظام خاص طور پر اس طرح تخلیق کیا ہے کہ رسدی لحمیات کا ایک جال چربی کی تہوں میں لپٹا ہوا ہے جو کہ 492 امینوایسڈ کی ایک لڑی پر مشتمل ہے اور جسے 25 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں سے 13 ہائیڈرو فلک (Hydrophilic) ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پانی کی طرف ایک خاص قسم کی کشش رکھتے ہیں اور بارہ ہائیڈر وفوبیک (Hydrophobic) ہیں جو