الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 346
340 بقا : حادثه یا منصوبه بندی ؟ حالات میں کمتر درجہ کی انواع بلا روک ٹوک نشو و نما پاتی رہیں۔یہ سوال حل طلب ہے کہ ان میں سے کونسی نوع بہترین ہے اور اس کے بہترین ہونے کو کس پیمانہ سے ناپا جاسکتا ہے؟ یہ تو بقا کے ایک سیدھے سادے معاملہ سے زیادہ کچھ نہیں۔ہر بار صرف موزوں ترین یعنی Fittest ہی باقی نہیں رہتا اور نہ ہی باقی رہ جانے والا ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔ہم بآسانی یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ بعض انواع حیات بعض مخصوص حالات میں بقا کے حوالہ سے بہترین قرار دی جاسکتی ہیں اور بعض دیگر انواع کو بعض مختلف حالات میں بہترین کہا جا سکتا ہے۔چنانچہ محض بقا کو انواع کی نسبتی خصوصیات کے موازنہ کا معیار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔۔اب ہم جہد للبقا کے اس عمل کا تجزیہ کرتے ہیں جو ایک ہی نوع کے افراد کے مابین قدرتی آفات کے وقت جاری ہوتا ہے۔ان میں سے بہت سے تو ان نامساعد حالات کا مقابلہ نہیں کر پاتے اور ختم ہو جاتے ہیں لیکن بعض ان خطرات کا اپنی فطری قوت کی مدد سے سامنا کرتے ہیں جبکہ بعض ایسے بھی ہیں جن پر ایسے حالات اثر انداز ہی نہیں ہوتے۔وہ بآسانی ان مصائب میں سے گزر جاتے ہیں جو دوسروں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔پیچش کی شدید و با میں عین ممکن ہے کہ ایک نہایت مشہور و معروف سائنس دان ہلاک ہو جائے جبکہ دل و دماغ کی اعلیٰ استعدادوں سے عاری ایک کسان محض اپنے مضبوط نظام ہضم کی وجہ سے بیچ نکلے۔اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک وبائی مرض سے بچ جانے والا کسی اور متعدی مرض کا شکار ہو جائے۔ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض ہیضہ سے تو بچ جائیں مگر انفلوئنز ایا کسی اور معمولی موسمی بیماری کی بھینٹ چڑھ جائیں۔یہ زندگی کے نشیب وفراز ہیں اور کسی کا خاص حالات میں بیچ نکلنا ایک نسبتی امر ہے۔اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ بچ جانے والے ہر اعتبار سے زندہ رہنے کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔سائنسیدان تو اس بات سے بھی آگاہ نہیں ہیں کہ انتخاب طبیعی (Natural Selection) کا عمل کیوں بعض ایسے جانداروں سے ترجیحی سلوک کرتا ہے جو بظاہر زندہ رہنے کے قابل نہیں ہوتے۔کوئی ایسا واحد پیمانہ موجود نہیں ہے جس کی مدد سے ہر معاملہ کے بارہ میں حتمی رائے دی جا سکے۔انتخاب طبعی کا یہ غیر شعوری عمل حق میں یا خلاف فیصلہ دیتے وقت کسی بھی معاملہ سے متعلق تمام مثبت اور منفی پہلوؤں کو مد نظر نہیں رکھ سکتا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ زندگی اور موت کے قوانین عام