الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 347 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 347

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 341 طور پر بقا اور فنا کے سلسلہ میں انتخاب طبعی کے عمل کے براہ راست زیر اثر نہیں ہوا کرتے۔کسی جانور کی زندگی یا موت کا فیصلہ ان بیشمار عوامل کی بنا پر ہوا کرتا ہے جو ایک عظیم آسمانی اور آفاقی نظام کا حصہ ہوا کرتے ہیں۔یہ آسمانی نظام ارتقا کے عمل میں کبھی مد نہ ہوتا اگر اس آسمانی سکیم کا ذرہ ذرہ ایک علیم وخبیر۔خالق و مالک۔ارفع و اعلیٰ اور مقتدر بالا رادہ ہستی کے کامل تصرف میں نہ ہوتا۔اس کا انکار کرنے والے دراصل انکار کا فیصلہ پہلے سے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔یعنی کسی خالق کو مانے بغیر ارتقا پر یقین رکھنے کا لازمی نتیجہ در حقیقت ارتقا کا انکار ہے۔ابتدائے آفرینش سے کرہ ارض پر تخلیق انسان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی استثنا ہے اور فنا قانون۔اس کے بیشمار اسباب ہیں جن کا اتفاقات سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ان عوامل کا شعور ہو جائے تو زندگی اگر نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور نظر آنے لگے اور جاندار ایک مسلسل خوف اور دہشت کے عالم میں زندگی گزارنے لگیں۔خوش قسمتی سے موت خاموشی سے آتی ہے اور انسان اکثر اس کے خطرہ سے بے خبر رہتا ہے۔اگر انسان میں یقینی موت کی موجودگی کے باوجود بے خبری میں رہنے کی صلاحیت موجود نہ ہو تو زندگی ایک عذاب بن جائے۔پینے کے پانی میں پائے جانے والے جراثیم اگر انسان کو نظر آنا شروع ہو جائیں تو پیاس بجھانا بھی لطف کی بجائے سزا بن جائے۔اگر ہمیں سانس کے ساتھ جسم کے اندر جانے والے جراثیم دکھائی دینے لگیں تو سانس لینا بھی دوبھر ہو جائے۔اگر ہم کسی عمدہ، صاف ستھرے ایرانی قالین پر پڑنے والے ہر قدم کے ساتھ اڑنے والی مخلوق دیکھنے لگیں تو بہتوں کے لئے سانس لینے کا معمولی عمل بھی تکلیف دہ ہو جائے۔بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ تمام گھریلو مائیٹ (Mite) کی قسم کے حشرات اگر نظر آنے لگیں تو وہ زمین پر بسنے والے نہایت بد صورت ڈائنو سار سے بھی زیادہ بھیا نک دکھائی دینے لگیں۔ہوا، جس میں ہم سانس لیتے ہیں اتنی مختلف اقسام کے جراثیم سے بھری ہوئی ہے کہ اگر وہ ہمارے جسمانی نظام میں جڑ پکڑ جائیں توٹی۔بی، نمونیہ، پھیپھڑوں اور جگر کے کینسر، ہر قسم کی پیچش اور اسہال، سپٹی سیمیا (Septicaemia)، ایگزیما اور تمام اعضائے رئیسہ کی دیگر کئی مہلک بیماریاں لاحق ہو جائیں۔یہ جراثیم سانس کے ذریعہ ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود اکثر