الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 345
بقا حادثہ یا منصوبہ بندی؟ تمام جانداروں کی بقا کا معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں جتنا ڈارون کے نظریہ بقائے اصلح کے گھسے پٹے فارمولے کی روشنی میں نظر آتا ہے۔یہ اصطلاح پورے طور پر صرف اس وقت ہی سمجھ میں آسکتی ہے جب بعض مخصوص اور معین مثالوں کو پیش نظر رکھ کر اس کا جائزہ لیا ائے۔ورنہ خدشہ ہے کہ یہ معروف اصطلاح لوگوں کی درست سمت میں رہنمائی کرنے کی بجائے انہیں غلط راستہ پر نہ ڈال دے۔اصل نزاع لفظ بہترین یا 'Fittest کا ہے جس کے صحیح مفہوم کا تعین کئے بغیر اس دعوی کو آزمایا نہیں جا سکتا اور جہاں تک ادنیٰ درجہ کی حیات سے اعلیٰ درجہ کی حیات تک کے ارتقا میں 'بقائے اصلح کے کردار کا تعلق ہے تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ یہ جا۔نظر یہ غلط ثابت ہو جائے۔حیات کی کسی ایک خصوصیت کو دوسری پر ترجیح دینا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بظاہر ایک برتر نوع حیات بعض حالات میں مشکلات کا سامنا نہیں کر پاتی جبکہ ایک متر درجہ کی نوع انہی حالات سے بآسانی گزر جاتی ہے۔چنانچہ بحران کی نازک حالت میں قدرت خود بخود اس کمتر درجہ کی نوع کے حق میں اپنا فیصلہ صادر کر دیا کرتی ہے۔شدید قسم کی خشک سالی کے دوران بہت سی متر درجہ کی انواع حیات بچ جاتی ہیں جبکہ انسان اس دباؤ کو برداشت نہ کر سکنے کے نتیجہ میں فنا ہو سکتا ہے۔قدرتی آفات مثلاً درجہ حرارت میں اچانک تبدیلیاں، آتش فشاں کا پھٹنا، بگولے اور آندھیاں، جنگل کی آگ، سیلاب اور زلازل وغیرہ حیات کی مختلف انواع کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ان حالات میں یہ بات خارج از امکان نہیں کہ چند گھنٹوں یا سیکنڈوں میں وہ سب کچھ تباہ و برباد ہو جائے جسے عمل ارتقا نے لاکھوں کروڑوں سالوں میں تیار کیا ہے۔لیکن انہی خطرناک 339