الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 309

زندگی کے آغاز سے متعلق مختلف نظریات صدیوں سے فلسفی اس گتھی کو سلجھانے میں سرگرداں رہے ہیں کہ کائنات کیسے معرض وجود میں آئی ؟ موجودہ دور میں ان کی توجہ خاص طور پر زندگی کی ابتدا کے مطالعہ پر مرکوز رہی ہے۔لیکن وہ بھی اسی روایتی اوّل و آخر کے معمہ میں الجھ کر رہ گئے کہ مرغی پہلے پیدا ہوئی تھی یا انڈہ؟ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ نامیاتی مادہ کیسے وجود میں آیا؟ زندگی اور نامیاتی مادہ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔سوال یہ ہے کہ زندگی کی تخلیق سے پہلے غیر نامیاتی اجزا نامیاتی کیمیائی مادہ میں کیسے تبدیل ہوئے؟ محققین کو ایک عجیب متناقض صورت حال در پیش تھی۔ایک مسئلہ حل ہوتا تو کئی اور زیادہ پیچیدہ اور بظاہر لا منحل سوال سر اٹھانے لگتے۔تحقیق کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت سے سائنسدان اس میں شامل ہو گئے۔اور کبھی کبھی تو یوں لگتا تھا کہ جیسے خزانہ کی کنجی ہاتھ آنے لگی ہو۔جس سے بعض بلند بانگ دعاوی کرنے والے سائنس دانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی کہ ان کی تحقیق کے نتائج ان کی سوچ کے عین مطابق ہیں۔لیکن ان میں سے بعض محتاط سائنسدان ایسے بھی تھے جو اپنے ساتھیوں کو بے وجہ ایسے بلند بانگ دعاوی سے روکتے رہے اور انہیں خبر دار کرتے رہے کہ وہ کسی قسم کی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔غرضیکہ سائنسدانوں نے اس علمی خزانہ کی کنجی کی تلاش میں جو ان کے معیار کے مطابق ہو اپنی تحقیق کے گھوڑے ہر طرف دوڑا دیئے اور یہ اب تک جاری ہے۔تاحال کوئی ایسا مجوزہ حل سامنے نہیں آیا جسے سائنسی حلقوں نے بالا تفاق تسلیم کر لیا ہو۔مختلف نظریات سے متعلق مختلف سائنس دانوں کا رد عمل بھی اتنا ہی مختلف رہا ہے۔دنیا کے سامنے پیش ہونے والے ہر نئے خیال کو سائنسدان یا تو مکمل طور پر رد کر دیتے ہیں اور اس کی جگہ ایک اپنا نظریہ پیش کر دیتے ہیں یا اس نئے خیال کو جزوی طور پر قبول کر لیتے ہیں۔تاہم مجموعی طور پر تحقیق کی ایک سمت معین ہو چکی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ سلسلہ 303