الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 308
302 حيات : وحئ قرآن کی روشنی میں ترجمہ: بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضہ قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے اور وہ کامل غلبہ والا (اور ) بہت بخشنے والا ہے۔وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔تو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔پس نظر دوڑا۔کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟ نظر پھر دوسری مرتبہ دوڑا، تیری طرف نظر نا کام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہاری ہوگی۔مندرجہ بالا آیات میں اسی مضمون کا ذکر ہے کہ ارتقا کے شطرنج کا کھیل یا اتفاق ! پس پردہ ایک باکمال ہاتھ کارفرما ہے جواس کے مہروں کو ایک خاص مہارت کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔تخلیق کی اس عظیم الشان بساط پر ہر مہرہ ایک مقررہ منزل کی طرف رواں دواں ہے اور تخلیق کے اس منظر میں کسی بے ترتیبی یا حادثہ کی گنجائش نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے مطابق جاندار اور بے جان تمام اشیا میں ایسا با ہمی ربط ہے کہ اس میں کوئی بدنظمی نہیں پائی جاتی۔اس طرح کسی دوسرے خدا کا تصور بھی مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے وگر نہ تمام ترتیب درہم برہم ہو کر رہ جاتی۔اب تک ہماری بحث محض تعارف کی حد تک تھی۔اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ انہی مضامین کا کھل کر اور تفصیل سے جائزہ لے سکیں۔