الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 271
264 قرآن کریم اور کائنات کائنات کی تخلیق اول کے ضمن میں قرآن کریم بڑی وضاحت سے بیان کرتا ہے کہ اس کائنات کا خاتمہ ایک اور بلیک ہول کی صورت میں ہو گا۔اس طرح کائنات کی ابتدا اور اس کا اختتام ایک ہی طرز پر ہو گا اور یوں کا ئنات کا دائرہ مکمل ہو جائے گا۔چنانچہ قرآن کریم اعلان کرتا ہے۔يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَلَي السِّجِلِ لِلْكُتُبِ (الانبياء 105:21) ترجمہ: جس دن ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے جیسے دفتر تحریروں کو لپیٹتے ہیں۔اس آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات ابدی نہیں ہے۔نیز ایک وقت یہ عالم یہی کھاتوں کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔سائنسدان بلیک ہول کا جو نقشہ کھینچتے ہیں وہ اسی آیت کے بیان کردہ نقشہ سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔(ملاحظہ ہو تصویر نمبر 1) جوں جوں خلا سے مادہ بلیک ہول میں گرتا ہے توں توں کشش ثقل اور الیکٹرو مکنیک (Electromagnetic) قوت کی شدت کی وجہ سے دباؤ کے تحت ایک چادر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔چونکہ بلیک ہول کا مرکز اپنے محور کے گرد گھومتا رہتا ہے اس لئے یہ تمام مادہ کوئی نا معلوم صورت اختیار کرنے سے پہلے اس کے گرد لپیٹا جاتا ہے۔اسی آیت کریمہ میں آگے چل کر بیان کیا گیا ہے: كَمَا بَدَأَنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدَهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ (الانبياء 105:21) ترجمہ: جس طرح ہم نے پہلی تخلیق کا آغاز کیا تھا اس کا اعادہ کریں گے۔یہ وعدہ ہم پر فرض ہے۔یقینا ہم یہ کر گزرنے والے ہیں۔اس آیت میں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ جب کائنات ایک بلیک ہول میں گم ہو جائے گی تو اس کے بعد ایک نیا آغاز ہوگا۔اللہ تعالیٰ کائنات کی از سر نو تخلیق کرے گا جیسا کہ اس نے پہلے کیا تھا۔بلیک ہول میں گم کائنات ایک بار پھر اندھیرے سے باہر آ جائے گی۔اور تخلیق کا یہ عمل ایک بار پھر شروع ہو جائے گا۔قرآن کریم کے مطابق کائنات کے سکڑنے اور پھیلنے کا عمل ایک جاری عمل ہے۔