الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 272

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 265 تخلیق کے آغاز اور اس کے انجام سے متعلق قرآنی نظریہ بلا شبہ غیر معمولی شان کا حامل ہے۔اگر عصر حاضر کے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان کو یہ باتیں الہاما بتائی جاتیں تو یہ بھی کچھ کم تعجب کی بات نہ ہوتی۔لیکن یہ دیکھ کر انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ تخلیق کے ہمیشہ دہرائے جانے سے متعلق یہ اتنے ترقی یافتہ نظریات آج سے چودہ سو سال قبل صحرائے عرب کے امی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بذریعہ وحی منکشف فرمائے گئے تھے۔اب ہم اجرام فلکی کے ایک اور پہلو کا جائزہ لیتے ہیں جو قرآن کریم اور اجرام فلکی ان کی حرکت کے بارہ میں ہے۔اس کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ زمین کی حرکت کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ اس زمانہ کے مروجہ نظریات سے کوئی بھی تضاد دکھائی نہیں دیتا۔چنانچہ اس زمانہ میں تمام اہل علم اور دانشور اس بات پر متفق تھے که زمین ساکن ہے اور سورج، چاند اور دیگر اجرام فلکی اس کے گرد مسلسل گھوم رہے ہیں۔اس تناظر میں عام قاری کو قرآن کریم میں زمین کی گردش کا ذکر شاید ہی دکھائی دیتا لیکن غور سے پڑھنے والے کیلئے پیغام بہت واضح اور صاف تھا۔اگر قرآن کریم میں زمین کو ساکن اور اجرام فلکی کو اس کے گرد گردش کرتے ہوئے بیان کیا جاتا تو اگر چہ اس دور کے لوگ اس سے مطمئن ہو جاتے لیکن بعد میں آنے والوں کے نزدیک یہ نظریہ قرآن کریم کو نازل کرنے والے کی لاعلمی کا ثبوت قرار پاتا اور سارازور اس بات پر ہوتا کہ یہ کلام کسی اعلیٰ اور علیم و خبیر ہستی کی طرف سے نہیں ہے۔زمین کی حرکت کو دیگر اجرام فلکی کی حرکت کی نسبت سے من و عن بیان کرنے کی بجائے قرآن کریم اسے یوں بیان کرتا ہے: وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَر السَّحَابِ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ ( النمل 27 : 89) ترجمہ: اور تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اس حال میں کہ انہیں ساکن و جامد گمان کرتا ہے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہیں۔( یہ ) اللہ کی صنعت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔اس اعلان سے کہ ” پہاڑ مسلسل حرکت میں ہیں، لاز ما یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ زمین بھی ان کے