الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 270
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 263 طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔جس کا مطلب مکمل تاریکی ہے اور اس کو اصطلاحاً Singularity کہا جاتا ہے جو Event Horizon یا واقعاتی افق سے بھی آگے کہیں دور واقع ہوتی ہے۔بلیک ہول ایک بار معرض وجود میں آجائے تو یہ بڑی تیزی سے پھیلنے لگتا ہے۔کیونکہ دور دراز کے ستارے اس کی بڑھتی ہوئی کشش ثقل کی وجہ سے اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ایک اندازہ کے مطابق ایک بلیک ہول میں موجود مادہ کی مقدار سورج میں موجود مادہ کی مقدار سے دس کروڑ گنا ہو جاتی ہے۔اس کی کشش ثقل کا میدان وسیع ہوتے ہی خلا سے مزید مادہ اس کی طرف اتنی تیز رفتاری سے کھنچتا چلا جاتا ہے کہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب پہنچ جاتی ہے۔1997ء میں یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ ہماری کہکشاں میں ایک بلیک ہول میں موجود مادہ کی مقدار سورج میں موجود مادہ کی مقدار سے دو لاکھ گنا زیادہ ہے۔بعض اعداد و شمار کے مطابق بہت سے بلیک ہول ایسے بھی ہیں جن میں سورج سے تین ارب گنا زیادہ مقدار میں مادہ موجود ہے۔ان کی کشش ثقل اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ بڑے بڑے ستارے بھی اپنا راستہ چھوڑ کر ان کی طرف کھینچتے چلے جاتے ہیں۔اور بلیک ہول میں غائب ہو جاتے ہیں۔اس طرح رتقا ء کا عمل مکمل ہو کر Singularity یا اس واحد ہیولہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔جو مکمل طور پر بند بھی ہے اور تاریک بھی۔رہا اس سوال کا جواب کہ یہ کائنات کس طرح پیدا ہوئی تھی۔تو اس کے متعلق دوتازہ ترین نظریات بگ بینگ کے نظریہ کی ہی تائید کرتے ہیں۔ان نظریات کے مطابق یہ کائنات ایک ایسی Singularity یا وحدت سے جاری ہوئی جس میں مقید مادہ اچانک ایک زبردست دھما کہ سے ، پھٹ کر بکھرنا شروع ہو گیا اور اس طریق پر Event Horizon یا واقعاتی افق کے ذریعہ ایک نئی کائنات کا آغاز ہوا۔جس مرحلہ پر بلیک ہول کی حد سے روشنی پھوٹنا شروع ہوئی اسے وائٹ ہول (White Hole) کہا جاتا ہے۔34 ان دونوں میں سے ایک نظریہ کے مطابق یہ کائنات ہمیشہ پھیلتی چلی جائے گی جبکہ دوسرے نظریہ کے مطابق ایک مرحلہ پر پہنچ کر کائنات کا پھیلاؤ رک جائے گا اور کشش ثقل اسے اندر کی طرف کھینچنا شروع کر دے گی۔آخر کار تمام مادہ واپس کھینچ لیا جائے گا اور غالباً ایک اور عظیم الشان جبلیک ہول، جنم لے گا۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم مؤخر الذکر نظریہ کی تائید کرتا ہے۔