الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 180

176 سيكولر نقطه هائے نظر کا تجزیه پر ثابت نہیں کرتے۔اس کے برعکس سائنسدان ارتقا کی بات کرتے وقت زندگی کے جملہ ادوار کی منزل به منزل ترقی کی نشاندہی کرتے ہیں جس کی بنا پر زندگی کے اربوں سالوں پر محیط ماضی کے سفر کی بخوبی پہچان ہوسکتی ہے۔کیا اس بارہ میں کوئی شمہ بھر ثبوت موجود ہے کہ ہستی باری تعالیٰ کے تصور کی تکمیل کا سفر بھی اس قسم کے ارتقائی مراحل سے گزرا ہو۔کیا بتوں کی پوجا کرنے والا کوئی ایسا تو ہم پرست معاشرہ بھی کہیں ہو گزرا ہے جس نے بالآخر اپنی ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد توحید اختیار کر لی ہو؟ واقعہ یہ ہے کہ ایک بھی نہیں۔بایں ہمہ ماہرینِ عمرانیات پھر بھی مصر ہیں کہ انسان کی بنیادی قوت ادراک ہی بالآخر خدا کے تصور پر منتج ہوئی۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے وہ بڑی تحدی سے اس امر پر قائم ہیں کہ دیوتاؤں کے وجود گھڑ لینے میں ان دیکھی ہستی کا خوف کارفرما ہے۔جاہلانہ شعبدہ بازیوں اور جہالت کے پردوں میں پنہاں خطرات نے دل و دماغ پر تسلط جما لیا۔ان کے نزدیک دور قدیم کے انسانوں نے سانپوں، بچھوؤں ، تندوؤں، چیتوں اور شیروں کی پوجا شروع کر دی۔زلزلوں کے زمین کو ز یروز بر کرنے ، آسمانی بجلی کے درختوں کی دھجیاں بکھیر نے اور طوفانوں کی شوریدہ سری اور بے رحمی کے نتیجہ میں ہستی باری تعالیٰ کے تصور کا آغاز ہوا جس نے مظاہر قدرت کی پرستش کے بعد دل ہلا دینے والی مادی اشیاء کی پوجا کی شکل اختیار کر لی۔اسی طرح بے جان اشیاء کی پرستش کے بعد جانوروں کی پوجا یعنی بچھوؤں اور سانپوں کی پوجا سے لے کر بلیوں اور دیگر جنگلی جانوروں تک کی پوجا ہونے لگی حتی کہ بندر بھی دیوتا تصور کئے جانے لگے۔قدیم انسان نہ تو آسمانی بجلی کا راز پا سکے اور نہ ہی اسے تخلیق کرنے والی قوتوں کو جان سکے۔اس کے باوجود وہ ان سے خوفزدہ ضرور تھے۔انہوں نے سمجھا کہ ہر پر جلال مظہر قدرت بادلوں کی اوٹ میں موجود ہیبت ناک دیوتا کے غیظ و غضب کا اظہار ہے۔اس طرح ان کے ناپختہ ذہنوں نے اپنی سادہ لوحی سے تو ہمات پر مبنی قصے گھڑ نے شروع کر دیئے اور ان جابر اور مطلق العنان دیوتاؤں کو خوش کرنے اور ان کے غضب سے بچنے کیلئے رسومات اور قواعد وضوابط وضع کر لئے۔عبادت گاہیں تعمیر ہوئیں۔قربانیاں دی گئیں۔صحیح اور غلط کا شعور پیدا ہونا شروع ہوا۔طرح طرح کی مذہبی رسوم ایجاد کی گئیں اور بالآخر الہامی کتب مرتب کر لی گئیں۔واہ! کیا کہنا۔ان بے چاروں کے ابتدائی اور قدیم ترین طرز فکر کو کیسا مبالغہ آمیز