الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 179
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 175 لیکن یہ نہیں کہ ان کی عبادت شروع کر دیں۔رہائی کے بعد یہی مظلوم سابقہ ظالموں کو بے نقط سناتے ہیں اور گندی گالیاں دیتے ہیں۔پوجا کا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ایسی کوئی جاسوسی کہانی آج تک ہماری نظر سے نہیں گزری کہ MI5 کے کسی جاسوس نے KGB کے تشدد کرنے والے کارندے کو خوف کی وجہ سے پوجنا شروع کر دیا ہو۔جس خوف خدا کا ذکر آسمانی مذاہب کرتے ہیں اس کا درندوں یا دیگر دہشت ناک چیزوں کے خوف سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔بے شک عذاب الہی کی تہدید جرم سے باز رکھنے کی غرض سے - ہے تا کہ لوگ اپنے ساتھ زیادتی کے مرتکب نہ ہوں تاہم قدیم انسانی معاشروں میں محض جنگلی درندوں یا طوفان بادوباراں کے خوف کی بنا پر اس قسم کی تبدید کی کوئی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی کوئی ایسا واقعہ ملتا ہے کہ جنگلی درندوں یا طوفان برپا کرنے والے عناصر کے خوف یا دھمکی کی بنا پر اس معاشرہ نے جارحیت سے ہاتھ روک لیا ہو۔پولیس، ٹریفک پولیس اور مجسٹریٹ وغیرہ سے لوگ خوف تو کھاتے ہیں اور شاید نفرت بھی کرتے ہیں لیکن کبھی کوئی ان کی پوجا نہیں کرتا۔نہایت قدیم دور کا وحشی انسان بھی کسی خونخوار شیر سے خوف کھا کر اپنی جان بچانے کیلئے اس سے دور بھاگے گا نہ یہ کہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہو کر رحم کی بھیک مانگے اور نہ ہی اس کی عظمت اور جاہ و حشمت کے گن گائے گا۔بجلی کا کوندا، بارش کا طوفان اور گرمیوں کے سورج کی جھلسا دینے والی تپش قدیم انسان کو پناہ گاہ تلاش کرنے اور حفاظتی اقدام کرنے پر ہی مائل کر سکتی ہے۔کیا کوئی ماہر عمرانیات، در حقیقت یہ تسلیم کرتا ہے کہ سخت طوفانِ بادوباراں کے دوران زمانہ قدیم کا انسان حفاظتی اقدام کی بجائے اپنے غار سے باہر آ کر قدرت کے غضبناک اور بپھرے ہوئے عناصر کے سامنے سر بسجو د ہو جائے گا۔سورج اور ستاروں کی پوجا کا خوف اور لالچ کی بنا پر پوجا کرنے کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس امر کی قطعاً کوئی شہادت موجود نہیں کہ انسان نے چھوٹے ارضی معبودوں کی عبادت۔رفتہ رفتہ زیادہ طاقتور اور ارفع تصوراتی وجود کی عبادت شروع کر دی ہو۔ماہرین عمرانیات ارتقا کے بارہ میں گفتگو تو کرتے ہیں لیکن وہ اپنے مفروضہ کو سائنسی طریق