الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 181

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 177 خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے ! یا ان ماہرین عمرانیات کی فراست کو داد دیجئے جنہوں نے ان سادہ ذہن والے قدیم انسانوں کی طرف سے بلند و بالا آسمانی اور ہوائی قلعے تعمیر کر دیئے۔وہ اتنا بھی نہیں سمجھ سکے کہ فطرت پرست مذاہب اور الہام پرمبنی مذاہب میں زمین آسمان کا فرق ہے اور نہ ہی وہ یہ جان پائے کہ ان دینی پیشواؤں اور پرانے دیو مالائی مسالک کا درس دینے والوں نے کبھی الہام الہی پر مبنی کسی نظام کا دعوی کیا۔اسی طرح ان کے درمیانی واسطہ ہونے کے نام نہاد دعوی کو بھی کبھی چینج نہیں کیا گیا۔انہیں یہ منصب نسلاً بعد نسل ان کے پیشروؤں کی طرف سے وراثتا ملتا رہا۔معاشرہ بھی اسے بلا چون و چرا تسلیم کرتا رہا۔ان کے دعاوی کی تائید میں کبھی بھی ان سے آسمانی نشانات پیش کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔لہذا وہ اپنی تائید میں طرح طرح کے شعبدے اور ہتھکنڈے ایجاد کرتے رہے۔یوں ضعیف الاعتقاد لوگ ان لوگوں کے دیوتاؤں کے فرضی قرب سے اور بھی مرعوب ہوتے رہے۔حالانکہ یہ سب کچھ فریب تھا۔اس طرح جھوٹے دیوتاؤں کو جھوٹے دعویداروں کی تائید حاصل ہوتی رہی۔ان پیشہ ور غیب دانوں اور خدا تعالیٰ کے فرستادہ بانیان مذاہب عالم کے مابین فرق کرنے میں جن امور کوملحوظ رکھنا ضروری ہے انہیں خلاصہ یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔1 بت پرست کا بہنوں کی حیثیت پہلے سے قائم شدہ عبادت گاہوں میں مسلم ہوتی ہے۔۔یہ لوگ کوئی ایسا نیا مذہبی نظریہ متعارف نہیں کراتے جو پہلے سے رائج مسلک سے اختلاف رکھتا ہو یا سرے سے ہی اس کا منکر ہو اور نہ ہی وہ معاشرہ کی قدروں اور کردار کو تبدیل کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔وہ نہ صرف پرانے اعتقادات اور رسوم کی تائید کیا کرتے ہیں بلکہ عوام الناس میں مقبول دیو مالائی کہانیوں اور تو ہمات کی بھی کبھی مخالفت نہیں کرتے۔۔3 وہ اکثر و بیشتر مروجہ سیاسی نظام میں مقبول ہوتے ہیں اور حکمرانوں کے مذہبی اعتقادات کی مخالفت کبھی مول نہیں لیتے۔بے شک کبھی کبھار شاذ کے طور پر مذہبی رہنماؤں نے اپنے ہم عصر حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا لیکن ایسا ہمیشہ حاکم وقت کی بیجا مداخلت کے نتیجہ میں بھڑ کنے والے جذبہ انتقام کی وجہ سے ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسی بغاوتوں کے پیچھے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کا جذبہ بھی کارفرما ہوتا ہے۔تاہم یہ استثنائی مثالیں ہیں لیکن عموماً ہوتا یہ