الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 160

دکھ اور الم کا مسئله 158 اعصابی مراکز محسوس کر کے نقصان کے احساس کو بطور رنج اور فائدہ کے احساس کو بطور راحت اعصاب کے ذریعہ ذہن تک منتقل کرتے ہیں۔تمام شعور جتنا کم ترقی یافتہ ہو گا اتنا ہی تکلیف کا احساس بھی کم ہو گا۔یہی حال خوشی کا ہے۔اس طرح خوشی اور غم کے احساس کیلئے اعضائے جس کی موجودگی ناگزیر ہے۔امکان غالب ہے کہ اگر تکلیف محسوس کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیا جائے تو اس کے ساتھ ساتھ خوشی اور لذت محسوس کرنے کی صلاحیت بھی اسی حد تک کم ہو جائے گی۔یہ دونوں برابر اہمیت کے حامل ہیں اور یکساں طور پر ارتقا کے پہیہ کو آگے بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔ایک کو دوسری سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ارتقا کا تمام تخلیقی منصوبہ کالعدم ہو جائے گا۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تکلیف کو اپنی حیثیت میں ایک علیحدہ وجود کے طور پر نہیں بلکہ لذت اور آرام کے ایک ناگزیر جزو کے طور پر پیدا کیا ہے۔خوشی کی عدم موجودگی تکلیف ہے جو کہ اس کے سائے کی طرح ہے بالکل اسی طرح جیسے تاریکی ایک سایہ ہے جو روشنی کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے۔زندگی کیلئے موت ناگزیر ہے۔دونوں مختلف درجات پر مشتمل ایک ہی سطح کی دو انتہا ئیں ہیں۔جوں جوں ہم موت سے دور ہٹتے ہیں بتدریج زندگی کی ایک حالت یعنی خوشی کے قریب ہوتے چلے جاتے ہیں۔لیکن جب ہم زندگی سے دور ہٹتے ہیں تو احساس زیاں اور دکھ کے ساتھ موت کی طرف سفر کرتے ہیں۔بقا کی جدو جہد کو سمجھنے کی یہی کلید ہے جو زندگی کے معیار کو بہتر بناتی اور ارتقا کی آخری منزل کے حصول میں مدد دیتی ہے۔”بقائے اصلح کا اصول ارتقا کے اس عظیم الشان منصوبہ میں بھر پور کردار ادا کرتا ہے۔یہ امر قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے: تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرَةُ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيُوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ الملك 67 : 2-3) ترجمہ بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضہ قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ