الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 159

دکھ اور الم کا مسئلہ حواس اور متعلقہ اعضاء کے ارتقائی مطالعہ سے بآسانی یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ان میں نفع نقصان کا احساس شروع ہی سے موجود تھا۔یہ ارتقائی سفر فائدہ اور نقصان کی شناخت پر مبنی ایک طویل سفر ہے جس کے نتیجہ میں اعضائے جس بتدریج ترقی پا کر خوشی اور تکلیف، آرام اور دکھ کی موجودگی کو محسوس کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔اگر ہم پیچھے مڑ کر حیات کی سب سے ادنیٰ حالت کا جائزہ لیں اور اس زینہ کے نچلے درجوں کا چوٹی کے اعلیٰ مراحل کے ساتھ مقابلہ کریں تو یہ جان لینا مشکل نہیں رہتا کہ دراصل ارتقا سے احساس اور شعور کا ارتقا ہی مراد ہے۔زندگی تسلسل کے ساتھ شعور کے دائرے میں نیچے سے اوپر کی طرف ترقی کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں احساس کی قوتیں مسلسل بیدار سے بیدار تر ہوتی چلی جاتی ہیں۔آغاز حیات میں سود و زیاں کا احساس خاصا دھندلا اور مبہم ہوا کرتا ہے اور ابتدائی حیات کی جسمانی ساخت میں اس احساس کو کنٹرول کرنے والا کوئی مرکز دریافت نہیں ہوا لیکن اپنے ماحول اور بعض عناصر کی موجودگی میں ان کے رد عمل سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مبہم سا شعور موجود ضرور ہے۔یہی وہ بظاہر مہم اور نا قابل بیان حس ہے جسے خالق نے کسی نہ کسی طرح قوت ادراک کی شروعات میں استعمال کیا ہے۔اسی قوت مدرکہ نے بتدریج ترقی پا کر جانداروں کے جسم میں اپنی جگہ بنالی۔یہی مقامات بالآخر موجودہ اعضائے جس کی شکل اختیار کر گئے۔دماغ کی تخلیق ایک الگ اور غیر متعلق واقعہ نہیں۔اعضائے جس کی ترقی کسی بھی متوازی مرکزی اعصابی نظام کے بغیر با مقصد نہیں ہو سکتی جو مختلف اعضائے جس کے ذریعہ پہنچائے جانے والے پیغامات کی تشریح کر سکے۔چنانچہ صاف ظاہر ہے کہ دماغ نے بھی اعضائے جس کے لازمی جزو کے طور پر ساتھ ساتھ ترقی کی ہے۔شعور جتنا زیادہ ترقی یافتہ ہو گا سود و زیاں کا احساس بھی اتنا ہی شدید ہو گا جسے مخصوص 157