الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 161

الهام ، عقل ، علم اور سچائی تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔اور وہ کامل غلبہ والا (اور) 66 159 بہت بخشنے والا ہے۔دنیا میں دکھ کیوں ہے؟ مندرجہ بالا آیت میں اس سوال کا جواب بڑی وسعت اور وضاحت سے دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں موت و حیات کا گہرا فلسفہ، ان دونوں کے درمیان پائے جانے والے ان گنت مراتب نیز زندگی کی تشکیل اور اس کا معیار بہتر بنانے میں ان کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔یہی وہ ترتیب ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہاں واضح فرمائی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ زندگی ایک مثبت قدر ہے اور موت سے محض اس کی عدم موجودگی مراد ہے اور ان کے درمیان کوئی حد فاصل نہیں ہے۔حیات کا موت کی طرف سفر اور زوال پذیری یا دوسرے پہلو سے موت کی حیات کی طرف حرکت اور نتیجہ طاقت، توانائی اور شعور کا حصول ایک تدریجی عمل ہے۔یہ تخلیق کا عظیم منصوبہ ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا ہے : ” کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔“ یہ موت اور حیات کے مابین پیہم جدوجہد ہے جو جانداروں کو ایک مستقل آزمائش میں مبتلا رکھتی ہے۔چنانچہ باقی وہی رہتے ہیں جو اپنے طرز عمل سے اپنے آپ کو بہترین ثابت کریں اور اپنی بقا کیلئے بہتر مقام حاصل کر پائیں۔مذکورہ بالا آیات میں ارتقا کا فلسفہ اور طریق بیان کیا گیا ہے۔یہ موت اور حیات کی قوتوں کی مسلسل جدوجہد ہی ہے جو جاندار انواع کو مستقلاً موت سے دور لے جانے یا اس کی طرف جانے کی قوت عطا کرتی ہے۔ارتقائی تبدیلیوں کے وسیع تناظر میں اس کا نتیجہ کسی وجود کی زندگی کے معیار کی بہتری یا ابتری کی صورت میں نکلتا ہے۔یہی ارتقا کی اصل روح ہے۔دکھ کو صرف اس صورت میں قابل اعتراض قرار دیا جا سکتا ہے اگر اسے نظام کائنات میں کوئی با مقصد کردار ادا کئے بغیر ایک علیحدہ وجود کے طور پر پیش کیا جائے۔لیکن دکھ کے احساس کے اس تجربہ سے گزرے بغیر تو سکون اور آرام کا احساس بھی ختم ہو جاتا ہے۔رنج اور تکلیف کے بغیر خوشی اور مسرت کا بھی کوئی لطف نہیں رہتا۔بلا شبہ اس کے بغیر زندگی کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا اور ارتقا کی منازل راستے ہی میں دم توڑ دیں گی۔چنانچہ حواس خمسہ کے ارتقا میں تکلیف اور سکون کے احساس نے یکساں کردار ادا کیا ہے۔