الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 129
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 129 خیالات کے حامل لوگ ایک ہی خدا کی بات کر رہے ہیں ؟ اگر چہ اس بارہ میں بھی اختلاف ہے۔اکثر کے نزدیک اس کیفیت کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو اس میں سے گزر چکے ہوں اور صاحب تجربہ ہوں۔اگر یہ کیفیت بالآخر خدا کی طرف نہیں لے جاتی، جب کہ بہت سے بدھ علماء خدا تعالیٰ کے وجود کے ہی منکر ہیں تو پھر اس کیفیت کی صرف یہی معقول تعریف ٹھہرتی ہے کہ ایسا خلا مکمل تباہی اور کامل موت کے مترادف ہے۔الغرض تمام فطری خواہشات کو، جن کا تعلق حواس خمسہ سے ہے اور جو زندگی کا حصہ ہیں، مکمل طور پر رد کر دیا جائے تا کہ کامل اطمینان یا نروان حاصل ہو۔یقینا سب پیروکار اس مقصد کو بیک وقت حاصل نہیں کر سکتے لیکن تمام بچے پیروکاروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کوشش کرتے چلے جائیں حتی کہ رفتہ رفتہ قدم بہ قدم وہ اپنی ذات کی کامل نفی کے مقام تک پہنچ جائیں۔اس مضمون کی مزید تفہیم کے لئے مناسب ہوگا کہ ہم اس موقع پر ایک نہایت موزوں واقعہ کا ذکر کریں۔کشمیر میں ایک بھکاری تھا جو کسی حد تک صوفی بھی تھا۔وہ اپنی محدود ضروریات کے سوا اور کچھ نہیں مانگتا تھا اور اکثر گہری سوچ میں گم رہتا جیسے وہ اپنے اندر کسی چیز کی تلاش میں ہو۔ایک دفعہ ایک عارف نے وہاں سے گزرتے ہوئے اسے خوشی سے ناچتے اور وجد میں رقص کرتے دیکھا۔اس عارف نے پوچھا: ”بابا ! بڑے خوش نظر آ رہے ہو، تم پہلے والے بھکاری تو نہیں لگتے۔کوئی خزانہ وغیرہ تو نہیں مل گیا تمہیں؟“ تم ٹھیک کہتے ہو۔مجھے ایک بیش بہا خزانہ ملا ہے۔جب کسی کی ساری خواہشات پوری ہو جائیں تو وہ خوش کیوں نہ ہو؟“ بھکاری نے جواب دیا۔یہ سن کر عارف نے کہا ”خود کو دیکھا بھی ہے تم نے؟ چیتھڑوں میں پھر رہے ہو اور تمہارا سارا جسم مٹی سے اٹا پڑا ہے۔پھر بھی تم کہہ رہے ہو کہ تمہاری ساری تمنائیں پوری ہوگئی ہیں؟“ بھکاری نے کمال بے اعتنائی سے جواب دیا: ”بات یہ ہے برخوردار، کہ انسان کی ساری خواہشیں پوری ہونے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ اس کی کوئی خواہش ہی نہ رہے۔میری 66 خوشی اور وجد کا بھی یہی راز ہے۔اب تم یہاں سے چلے جاؤ اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔“ یہ جواب سن کر عارف دم بخود ہو کر رہ گیا۔لیکن اگر اس پر دوبارہ غور کیا جائے تو لامحالہ محسوس