الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 128
128 بدھ مت کی نفی سے امن اور سکون کے حصول کیلئے بدھ مت کا یہ تصور دراصل فرار ہی کا دوسرا نام ہے۔بالفاظ دیگر اگر زندگی دوبھر ہے تو موت ہی اس کا واحد حل ہے۔وہ اپنے گھٹیا جذبات کو روح کے تابع کرنے کی جدو جہد کی بجائے روح کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ زندگی کی اس کشمکش سے فرار کا راستہ اختیار کرلے۔ان کے نزدیک چونکہ انانیت کو تسکین دینے والا ہر احساس گھٹیا سفلی محض مادی اور رذیل ہوا کرتا ہے اس لئے انجام کا رانا کے اعلیٰ ترین مفاد کی خاطر اسے قربان کر دینا چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ فرار کے نتیجہ میں حاصل ہونے والا سکون زندگی کی نفی کے مترادف ہوگا۔سکون دو قسم کا ہو سکتا ہے۔موت کو بھی سکون کا نام دیا جا سکتا ہے۔موت اور سکون میں فرق کرنا کوئی آسان نہیں۔مثلاً شکست سے سمجھوتہ اور بے عزتی پر راضی رہنا ہمارے اس نقطۂ نگاہ کی وضاحت کرتا ہے۔فتح کے نتیجہ میں حاصل ہونے والا اطمینان اور شکست کے بعد امن بظاہر ایک سے لگتے ہیں لیکن دراصل ان میں بعد المشرقین ہے۔اگر ایک زندگی ہے تو دوسرا موت۔باہمی اختلافات اور تضادات کی وجہ سے مذاہب کی پہچان اور ان میں امتیاز بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔بظاہر ہر مذہب ایک اطمینان بخش انجام کی طرف رغبت دلاتا ہے تاہم بعض ایسے ہیں جو آرام سے موت کے آگے ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں۔جبکہ بعض کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ کسی عظیم الشان مقصد کیلئے اپنی جان کی قربانی بھی پیش کر سکیں۔ان میں ایسے بھی ہیں جو بدی کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں اور اخلاقیات سے نبرد آزما تمام چیلنجوں کا نہایت دلیری سے مقابلہ کر کے انہیں ہر قیمت پر شکست دیتے ہیں۔ان کے نزدیک اس طرح حاصل ہونے والا روحانی سکون ہی حقیقی نروان کہلا سکتا ہے۔بدھ مت جیسے زوال پذیر مذاہب اپنے ماننے والوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ فرار کے ذریعہ سکون کی پناہ گاہ تلاش کریں۔وہ انہیں تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنے فطری احساسات کو انگیخت کرنے والے ہر قسم کے لالچ اور تحریص سے بچنے کی کوشش کریں۔بدھ مت کا پیروکار اپنے من کے حصار میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔بعض لوگوں نے اس حالت کو مہم سے الفاظ میں خلا سے تعبیر کیا ہے جبکہ بعض اس کیفیت کو دائی اور روحانی قرار دیتے ہیں۔کیا اس سے ہم یہ سمجھیں کہ دونوں قسم کے