الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 130
130 بدھ مت ہوگا کہ بھکاری کا جواب جتنا عمدہ تھا اتنا ہی مہمل بھی تھا۔اس کی محدود ذات سے ہٹ کر دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ارد گرد کا ماحول اسی طرح خرابیوں اور دکھ درد سے بھرا پڑا تھا۔وہی ظلم و ستم ، وہی استبداد اور مطلق العنانی تھی اور پھر بھکاری کو بھی زندہ رہنے کیلئے کچھ نہ کچھ تو بہر حال درکار تھا۔حسب معمول غذا پانی اور ہوا اس کے لئے ناگزیر تھے۔بالفاظ دیگر انسان خواہشات سے نجات حاصل کر بھی لے تو اس کے لئے ضروریات سے نجات بہر حال ممکن نہیں۔جو تبدیلی بھی ہوئی وہ بھکاری کی ذات سے متعلق تھی۔لیکن کے معلوم کہ تبدیلی مستقل تھی یا محض عارضی؟ ہو سکتا ہے کہ سخت سرد رات میں اپنے ماحول کو گرم رکھنے کیلئے اس نے بھی ایک انگیٹھی، کچھ کپڑوں اور سر چھپانے کیلئے جگہ کی ضرورت محسوس کی ہو، بیماری کی حالت میں کسی معالج کی خواہش کی ہو اور اس کے جلد پہنچنے کا منتظر بھی رہا ہو۔محض ارادہ سے ، خواہ کتنا ہی مصمم کیوں نہ ہو، وہ کس طرح زندگی کے تلخ حقائق پر قابو پا سکے گا؟ شاید ایک بدھ بھکشو ہی اس کا جواب جانتا ہو۔اس سارے عمل میں خالی قناعت پسندی کے ذہنی احساس کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔ترک دنیا کی کیفیت در حقیقت کامل بے بسی کا نتیجہ تھی جسے چاہے سکون کا نام دیں یا موت کا ، اسے حقیقی بروان بہر حال نہیں کہا جا سکتا۔ہندوستان کے دو بڑے مذاہب یعنی ہندومت اور بدھ مت اس نظریہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو گئے کہ سکون قلب کا حصول ضروریات زندگی کو مستر د کر کے ہی ممکن ہے۔ظاہر ہے کہ یہ نظریہ زندہ رہنے کی جدو جہد اور بقائے اصلح سے متصادم ہے۔بالفاظ دیگر اس کا مطلب ہارمان کر۔نا کامی کو قبول کرنا ہے۔یہاں ہندومت اور بدھ مت کے بانیوں کی تعلیم زیر بحث نہیں ہے۔فقط ان کے ہزاروں سال سے زوال پذیر فلسفوں کے نتائج کو پرکھنا مقصود ہے۔یہ دونوں مذاہب اپنے الہامی منبع سے بہت دور جاچکے ہیں۔درحقیقت انہوں نے وہی راستہ اختیار کر لیا ہے جو دنیا کے دیگر بڑے بڑے مذاہب کے صوفیوں اور عارفوں نے کیا۔جہاں تک مؤخر الذکر طبقہ کا تعلق ہے تو وہ توحید سے اپنا تعلق توڑے بغیر الہامی مذہب کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے روحانی تجربات سے گزرتے ہیں جن کا تعلق الہام کی بجائے وجدان سے ہوتا ہے۔