الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 634 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 634

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 603 ہو تو کسی صورت میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہی پرانا نبی دوبارہ مبعوث ہوا ہے۔علاوہ ازیں جس روحانی مقام کا وہ حامل ہے، جو پیغام وہ لایا ہے، جو معجزات اس سے وقوع پذیر ہوتے ہیں اور جو تمام بنی نوع انسان کیلئے حکم و عدل ہے، اس کی تو انجیل میں مذکور مسیح کی ذات سے کوئی نسبت ہی نہیں۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جس عیسی کے نزول کا وعدہ آنحضرت ﷺ نے دیا تھا ان کی تو پوری شخصیت ہی مسیح ناصری سے یکسر مختلف ہے۔موعود عیسی سے اسرائیلی نبی حضرت عیسی علیہ السلام ہرگز مراد نہیں کیونکہ نہ تو وہ تو رات کے تابع ہوں گے اور نہ ہی انجیل کے جس کی تعلیم انہوں نے خود دی تھی۔اس طرح ان کی عمل داری صرف اسرائیل کے گھرانہ تک محدود نہیں ہوگی۔ان تمام حقائق کے باوجود اگر علماء یہ اصرار کریں کہ موعود عیسی وہی اسرائیلی مسیح ہے تو انہیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا میں دوبارہ آنے سے قبل ان کی حالت بالکل تبدیل ہو جائے گی۔نیز انہیں نبوت کی نئی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔اس صورت میں اگر یہ نئی نبوت نہیں تو پھر کیا ہے؟ کوئی ملاں تسلیم نہیں کرے گا کہ مندرجہ بالا خصوصیات کا حامل عیسی اس وقت تک اسلام میں شامل نہیں سمجھا جائے گا جب تک آنحضرت ﷺ کی مہر تمیت میں گنجائش نہ نکالی جائے۔اس صورت میں ان کے لئے صرف یہی رستہ باقی رہ جاتا ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھیں کہ حضرت عیسی بغیر کسی تبدیلی کے دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ان کی دوبارہ آمد پر شجر اسلام سے ان کی اس طرح پیوند کاری کی جائے گی کہ وہ ایک ایسے مصلح کے طور پر پرورش پاسکیں جسے عالمگیر مسلم نبی کہا جاسکے۔ہم ملاں کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی حضرت عیسی امت مسلمہ میں اجنبی ہی ہوں گے اور اپنے اسرائیلی تشخص کو چھوڑ نہیں سکیں گے۔ان کی حیثیت اس پیوند کی سی ہوگی جسے کسی اور نوع کے درخت سے جوڑ دیا جائے۔اگر کنول کی چیری کے درخت سے پیوند کاری ہو سکتی ہے یا جھٹر بیری کی اناس سے، تو صرف اسی صورت میں اسلام سے قبل کے نبی کا اسلام کے درخت سے پیوند کا تصور کیا جاسکتا ہے۔لیکن اس کا کیا فائدہ؟ کیونکہ پیوند شدہ تنا اپنی اصل نہیں چھوڑ سکتا۔اس لئے اسلام کے ساتھ جڑ جانے کے باوجود حضرت عیسی کی حیثیت اسرائیلی نبی کی ہی رہے گی۔پس حضرت عیسی علیہ السلام کے مسلمانوں میں جسمانی نزول کے باوجود ان کی اصلی حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی۔قرآن کریم کے بیان کے مطابق وہ ہمیشہ اسرائیلی نبی ہی رہیں گے۔اگر وہ کبھی