الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 635

604 حضرت عيسى عليه السلام اور ختم نبوت آبھی جائیں تو کوئی بھی جنونی مسلمان عالم ان کے دعوئی کو صرف اسی قرآنی تعلیم کی بنا پر بآسانی رڈ کر سکتا ہے۔بلکہ انہیں تو مفتری قرار دے کر ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کس بنا پر انہوں نے اس قرآنی ارشاد کو منسوخ کر دیا کہ وہ تو محض بنی اسرائیل کے نبی ہیں۔پس جب تک قرآن کریم انہیں اسرائیلی نبی قرار دیتا رہے گا ان کی یہ حیثیت بھی تبدیل نہیں ہو سکے گی۔آپ صرف اسرائیلی نبی تھے اور ہمیشہ اسرائیلی ہی ہی رہیں گے۔چنانچہ فرماتا ہے۔رسُولاً إلى بني إسراءيل (ال عمران 50:3) ترجمہ: وہ رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف۔آجکل بنیاد پرستوں نے توہین رسالت کا مسئلہ کھڑا کر کے مسلم عوام کے جذبات کو بہت زیادہ مشتعل کر دیا ہے۔اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کو جتنا خطرہ یہودیوں سے درپیش تھا اس سے کہیں زیادہ متعصب مسلمانوں کے ہاتھوں در پیش ہو گا۔علاوہ ازیں اپنی پہلی بعثت کے مقابلہ میں دوسری بعثت کے دوران آپ کو پہلے سے بھی زیادہ مختلف قسم کے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔حضرت عیسی کے وقت میں یہودی جتنے فرقوں میں بٹے ہوئے تھے آج عالم اسلام تنگ نظری اور مذہبی جنون کی وجہ سے ان سے کہیں زیادہ بٹا ہوا اور تفرقہ کا شکار ہے۔اگر کبھی حضرت عیسی اس دنیا میں آگئے تو آپ کی زندگی کو بیشمار خطرات لاحق ہوں گے خواہ آپ کسی بھی مسلمان مملکت میں نازل ہوں۔مثلاً اگر آپ ایران میں نازل ہوئے تو یہ بات واضح ہے کہ آپ کو اپنے مذہبی عقائد کی بنا پر سخت امتحان میں سے گزرنا پڑے گا۔کیا آپ بارہ اماموں پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں ؟ کیا آپ کا حضرت ابوبکر۔حضرت عمر۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت پر ایمان ہے؟ کیا آپ حضرت علی کی خلافت بلافصل پر ایمان رکھتے ہیں؟ ان کے جواب میں اگر حضرت عیسی کے عقائد شیعہ عقائد کے مطابق بھی ہوئے تب بھی بارہویں امام کی غیوبت کے مسئلہ پر آپ کی زندگی خطرے سے باہر نہیں ہوگی۔آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ نے اکیلے زمین پر آنے کی جرات کیسے کی جبکہ بارہواں مقدس امام ( المہدی ) ابھی کہیں چھپا ہوا ہے۔چنانچہ آپ کو بارہویں امام کی تصدیق کے بغیر ہی نازل ہو جانے پر مورد الزام ٹھہرا کر اور جھوٹا قرار دے کر سزا دی جائے گی۔لیکن اگر آپ حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی