الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 621 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 621

590 کیا غیر تشریعی نبی آ سکتا ھے ؟ دکھائی دیتا ہے۔یہ مفروضہ کہ انسان اتنی ذہنی بلوغت حاصل کر چکا ہے کہ وہ کسی کامل مذہب کے چیدہ چیدہ احکام کی روشنی میں اپنے فیصلے خود کر سکے اور اپنے لئے آپ کوئی ضابطہ اخلاق مرتب کر سکے، کئی اعتبار سے قابل تنقید ٹھہرتا ہے۔اس بات کو نہیں بھولنا چاہئے کہ ترقی کے ہر زینہ پر انسان نے اپنی دانست میں ہمیشہ یہی کھا ہے کہ وہ چینی بالیدگی کی آخری حدود کو چھورہا ہے۔تاریخ کے ہر دور میں ہر عہد کے لوگ اس غلط انہی میں مبتلا رہے ہیں کہ انہوں نے انسانی ترقی کی معراج کو پالیا ہے۔اپنے نسبتا بلند مقام سے نیچے دیکھتے ہوئے انہیں گزری نسلیں مقابلہ یقینا نا پختہ اور کم ترقی یافتہ معلوم ہوتی ہوں گی۔لیکن اس کے باوجود ماضی میں کسی بھی مرحلہ پر انسان نے اتنی عقل و دانش کا مظاہرہ نہیں کیا جس سے وہ پنے لئے ہدایت کا راستہ خود متعین کر سکتا۔فرعون جیسے خود سر لوگ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت سے نبرد آزما رہے۔اس قسم کے سرکش لوگوں نے ہمیشہ اپنی انا کے ہاتھوں وقت کے نبی کو ماننے سے انکار کیا۔ان سب کا ہمیشہ سے یہی دعویٰ رہا ہے کہ وہ اپنے معاملات کو سلجھانے کیلئے ایک پختہ شعور کے مالک ہیں۔لیکن تاریخ نے ان سب کی خوش فہمی کو غلط ثابت کر دیا ہے۔لہذا اس سے زیادہ بچگانہ سوچ اور کیا ہوگی کہ انسان کسی بھی مرحلہ پر یہ خیال کرے کہ اب وہ اپنی اخلاقی اور روحانی ضروریات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے خود کفیل ہو گیا ہے۔ا جہاں تک پہنی بالیدگی کا تعلق ہے تو تاریخی حقائق نے اسے بھی غلط ثابت کر دیا ہے۔نبی کی وفات کے بعد فقہی اختلافات اور تفسیر میں باہمی فرق کی بنیاد پر ملت کا کئی فرقوں میں تقسیم ہو جانا ایک ایسا عالمگیر رجحان ہے جس سے اسلام سمیت کوئی مذہب محفوظ نہیں رہا۔لہذا محض پہنی پختگی ہی انسان کیلئے شریعت سے صحیح نتائج اخذ کرنے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے خود خدا تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی بھی ضروری ہے۔اگر انسان کی ذہنی پختگی سے یہ مراد لی جائے کہ وہ خود ہی آسمانی صحیفوں سے صحیح نتائج اخذ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے تو پھر لازما مذ ہبی تعلیمات کے تمام بنیادی مسائل پر کامل اتفاق ہونا چاہئے۔لیکن افسوس کہ عملی زندگی میں ہمیں یہ بات نظر نہیں آتی۔اگر مسلمان بھی جنہیں آخری کامل کتاب کے پیروکار ہونے پر فخر ہے اس کی تفسیر کے بارہ میں باہمی اختلافات میں کسی سے پیچھے نہیں رہے تو پھر یہ نام نہاد ذہنی پختگی کس کام کی؟ تاریخ مذاہب اس امر