الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 620 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 620

کیا غیر تشریعی نبی آسکتا ہے؟ مسلم علماء اور مفکرین کی طرف سے غیر تشریعی نبوت کے بند ہو جانے کے عقیدہ کو عقلاً ثابت کرنے کی دو بڑی کوششیں کی گئی ہیں۔پہلی کوشش کا تعلق کسی بھی نئے معلم کی ضرورت سے ہے۔اس کی دلیل ان کے نزدیک یہ ہے کہ ہادی کامل اور مکمل کتاب کے بعد کسی اور مصلح کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔اگر اس بات کو ثابت کیا جا سکے کہ ایک مکمل کتاب اور ہادی کامل کے بعد کبھی بھی اخلاقی اور روحانی انحطاط نہیں ہو گا تو لازما کسی اور نبی کے آنے کا کوئی جواز باقی نہ رہتا۔لیکن افسوس کہ اس نظریہ کو نہ تو دلائل سے ثابت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی تاریخی شواہد سے۔یہ نظریہ اس لئے بھی ناقابل تسلیم ہے کہ انبیاء صرف شریعت ہی نہیں لاتے بلکہ نبوت تو بہت سے فضائل کا مجموعہ ہوا کرتی ہے۔کسی تشریعی نبی کے وصال کے بعد اس کی کتاب یا سنت نبوت کی قائم مقام نہیں ہوسکتی۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں کی حالت سے ید امر بخوبی واضح ہو جاتا ہے ہے اور مسلسل انحطاط پذیر مسلم معاشرہ اس امر کا کافی ثبوت ہے۔آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی بلند اور ارفع اخلاقی حالت سے عصر حاضر کے مسلمانوں کی اخلاقی حالت کو کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔حالانکہ ان کے پاس اب بھی وہی کامل اور ہر قسم کی تبدیلی اور تحریف سے پاک کتاب موجود ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے تھی۔ہر قسم کی نبوت کے کلمبیا بند ہو جانے کے عقیدہ کے حق میں دی جانے والی دوسری دلیل کا تعلق انسان کی ذہنی بلوغت سے ہے۔اس نظریہ کے سب سے بڑے علمبر دار علامہ اقبال ہیں جو بعض کے نزدیک دور حاضر کے سب سے بڑے مسلم مفکر ہیں۔اس نظریہ کی بنیاد اس مفروضہ پر رکھی گئی ہے کہ قرآن کریم کا نزول اس وقت ہوا جب انسان ذہنی اور عقلی بلوغت کی معراج کو پہنچ چکا تھا۔لہذا اب اسے مرسلین کی وساطت سے ہر وقت رہنمائی کی ضرورت نہیں جیسی اس کے آباؤ اجداد کو تھی۔کیا خوب فلسفہ ہے! لیکن باریک بینی سے جائزہ لینے پر کتنا بودا اور حقیقت سے عاری 589